المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن أبي طلحة، عن أبيه باب: عبداللہ بن ابی طلحہ کی اپنے والد سے روایات
حدیث نمبر: 4708
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْجَوْهَرِيُّ وَزَكَرِيَّا بْنُ حَمْدَوَيْهِ الصَّفَّارُ قَالَا: ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، قَالَا ثنا، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ثنا، عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عَلَى الْأَفْنِيَةِ فَمَرَّ بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا لَكُمْ وَالْجُلُوسُ عَلَى الصُّعُدَاتِ؟» فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا جَلَسْنَا نَتَحَدَّثُ نَذْكُرُ اللهَ قَالَ: «فَأَعْطُوا الْمَجَالِسَ حَقَّهَا» قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا حَقُّهَا؟ قَالَ: «غَضُّ الْبَصَرِ وَرَدُّ السَّلَامِ وإِهْدَاءُ السَّبِيلِ وَحُسْنُ الْكَلَامِ»ترجمہ
سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم راستوں کے کنارے بیٹھے تھے کہ نبی کریم ﷺ ہمارے پاس سے گزرے، تو فرمایا: ”تمہیں راستوں پر بیٹھنے سے کیا کام؟“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم بیٹھ کر باتیں کر رہے تھے اور اللہ کا ذکر کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو راستوں کا حق ادا کرو۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نگاہ نیچی رکھنا، سلام کا جواب دینا، راستہ بتانا، اور اچھی بات کرنا۔“