المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن أبي طلحة، عن أبيه باب: عبداللہ بن ابی طلحہ کی اپنے والد سے روایات
حدیث نمبر: 4707
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الطَّيَالِسِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَالْبِشْرُ يُرَى فِي وَجْهِهِ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نَرَى فِي وَجْهِكَ بَشَرًا لَمْ نَكُنْ نَرَاهُ قَالَ: " إِنَّ مَلَكًا أَتَانِي فَقَالَ: إِنَّ رَبِّكَ يَقُولُ لَكَ: أَمَا تَرْضَى أَوْ أَلَا يُرْضِيكَ أَنْ لَا يُصَلِّيَ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا؟ وَلَا يُسَلِّمُ عَلَيْكَ إِلَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا؟ قُلْتُ: بَلَى "ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو آپ ﷺ کے چہرے پر خوشی نمایاں تھی، عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! ہم آپ کے چہرے پر ایسی خوشی دیکھ رہے ہیں جو پہلے نہیں دیکھی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک فرشتہ میرے پاس آیا اور کہا: تیرا رب فرماتا ہے: کیا تو اس پر راضی نہیں کہ تیری امت میں سے جو بھی تجھ پر درود بھیجے میں اس پر دس بار رحمت بھیجوں، اور جو بھی تجھے سلام کہے میں اس پر دس بار سلامتی بھیجوں؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں!“