حدیث نمبر: 4702
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ الْخُوَارِزْمِيُّ، حَدَّثَنَا صَالِحُ الْمُرِّيُّ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُ مِنْ بِشْرِهِ وطَلَاقَتِهِ شَيْئًا لَمْ أَرَهُ عَلَى مِثْلِ تِلْكِ الْحَالِ قَطُّ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا رَأَيْتُكَ عَلَى مِثْلِ هَذِهِ الْحَالِ قَطُّ فَقَالَ: " وَمَا يَمْنَعَنْي يَا أَبَا طَلْحَةَ وَقَدْ خَرَجَ مِنْ عِنْدِي جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آنِفًا فَأَتَانِي بِبِشَارَةٍ مِنْ رَبِّي قَالَ: إِنَّ اللهَ بَعَثَنِي إِلَيْكَ أُبَشِّرُكَ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ يُصَلِّي عَلَيْكَ صَلَاةً إِلَّا صَلَّى اللهُ وَمَلَائِكَتُهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا "
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا تو میں نے آپ ﷺ کی خوش روئی اور کشادہ دلی ایسی دیکھی جو پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کو کبھی اس حال میں نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوطلحہ! مجھے خوش کیوں نہ ہونا چاہیے، ابھی ابھی جبریل علیہ السلام میرے پاس سے گئے ہیں، وہ میرے رب کی طرف سے خوشخبری لے کر آئے تھے، فرمایا: اللہ نے مجھے تیرے پاس بھیجا ہے تاکہ تجھے یہ خوشخبری دوں کہ تیری امت میں سے جو بھی تجھ پر ایک بار درود بھیجے، اللہ اور اس کے فرشتے اس پر دس بار رحمت بھیجتے ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4702
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 100، حدیث 4719