المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أنس بن مالك، عن أبي طلحة باب: انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْفِرْغَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْوَلِيدِ الطَّبَرَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسَارِيرُ وَجْهِهِ تَبْرُقُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا رَأَيْتُكَ أَطْيَبَ نَفْسًا وَلَا أَظْهَرَ بِشْرًا مِنْكَ فِي يَوْمِكَ هَذَا، فَقَالَ: " وَمَا لِي لَا تَطِيبُ نَفْسِي وَلَا يَظْهَرُ بِشْرِي وَإِنَّمَا فَارَقَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ السَّاعَةَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ مِنْ أُمَّتِكَ صَلَاةً كَتَبَ اللهُ لَهُ بِهَا عَشَرَ حَسَنَاتٍ وَمَحَا عَنْهُ عَشَرَ سَيِّئَاتٍ وَرَفَعَهُ بِهَا عَشَرَ دَرَجَاتٍ وَقَالَ: لَهُ الْمَلَكُ مِثْلَ مَا قَالَ: لَكَ قُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ وَمَا ذَاكَ الْمَلَكُ قَالَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَّلَ بِكَ مَلَكًا مِنْ لَدُنِ خَلْقِكَ إِلَى أَنْ يَبْعَثَكَ لَا يُصَلِّي عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا قَالَ: وَأَنْتَ صَلَّى الله عَلَيْكَ "سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا تو آپ ﷺ کے چہرے کی رونق چمک رہی تھی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کو آج جیسا خوش دل اور خوش رو کبھی نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے خوش کیوں نہ ہونا چاہیے، ابھی ابھی جبریل علیہ السلام میرے پاس سے گئے ہیں، انہوں نے کہا: اے محمد! تیری امت میں سے جو بھی تجھ پر ایک بار درود بھیجے، اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دیتا ہے، اس کی دس برائیاں مٹا دیتا ہے، اور اسے دس درجے بلند کر دیتا ہے، اور فرشتہ بھی اس کے لیے وہی کہتا ہے جو تو نے کہا۔ میں نے پوچھا: اے جبریل! وہ کیا فرشتہ ہے؟ کہا: بے شک اللہ عزوجل نے تیری تخلیق سے لے کر تیری بعثت تک ایک فرشتہ تیرے ساتھ مقرر کر رکھا ہے، تیری امت میں سے جو بھی تجھ پر درود بھیجے وہ کہتا ہے: تجھ پر بھی اللہ کی رحمت ہو۔“