حدیث نمبر: 4667
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبِي، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «خَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ، غَازِيًا فِي الْبَحْرِ، فَمَاتَ فِي السَّفِينَةِ، فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ مَكَانًا يَدْفِنُونَهُ فِيهِ، فَانْتَظِرُوا بِهِ سِتَّةَ أَيَّامٍ حَتَّى وَجَدُوا لَهُ بَعْدَ سَبْعٍ مَكَانًا يَدْفِنُونَهُ فِيهْ وَلَمْ يُغَيَّرْ كَمَا هُوَ» وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مَاتَ بِالْمَدِينَةِ
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سمندر میں جہاد کے لیے نکلے، تو کشتی میں ہی وفات پا گئے۔ انہیں دفن کرنے کے لیے کوئی جگہ نہ مل سکی، تو چھ دن انتظار کیا، پھر سات دن بعد انہیں دفن کرنے کی جگہ مل گئی، اور وہ اسی حالت میں تھے، بالکل نہیں بدلے تھے۔ اور جن کا کہنا ہے کہ وہ مدینہ میں فوت ہوئے (اگلی روایت میں تفصیل ہے):

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4667
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 92، حدیث 4683