حدیث نمبر: 4660
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: " خَطَبَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ، قَبْلَ أَنْ يُسْلِمِ، فَقَالَتْ: أَمَا إِنِّي فِيكَ لَرَاغِبَةٌ، وَمَا مِثْلُكَ يُرَدُّ، وَلَكِنَّكَ رَجُلٌ كَافِرٌ، وَأَنَا امْرَأَةٌ مَسْلَمَةٌ، فَإِنْ تُسْلِمْ فَذَلِكَ مَهْرِي لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، فَأَسْلَمَ أَبُو طَلْحَةَ وَتَزَوَّجَهَا "
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اسلام لانے سے پہلے ام سلیم رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام دیا، تو انہوں نے کہا: میں تم میں دلچسپی تو رکھتی ہوں، اور تمہارے جیسے شخص کو رد نہیں کیا جاتا، لیکن تم کافر ہو اور میں مسلمان عورت ہوں، اگر تم اسلام لے آؤ تو یہی میرا مہر ہوگا، میں تم سے اور کچھ نہیں مانگوں گی۔ چنانچہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اسلام لے آئے اور ان سے نکاح کر لیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4660
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 90، حدیث 4676