المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند زيد باب: سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ؟ فَقَالَ: «صَلِّهَا مَعَنَا الْيَوْمَ وَغَدًا» فَلَمَّا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَاعِ نَمِرَةَ مِنَ الْجُحْفَةِ، صَلَّاهَا حِينَ طَلَعَ أَوَّلُ الْفَجْرِ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِذِي طُوًى أَخَّرَهَا، حَتَّى قَالَ النَّاسُ: أَقُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ صَلَّيْنَا، فَصَلَّى أَمَامَ الشَّمْسِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: «مَا قُلْتُمْ؟» قَالُوا: لَوْ صَلَّيْنَا قَالَ: «لَوْ فَعَلْتُمْ لَأَصَابَكُمْ عَذَابٌ» ثُمَّ دَعَا السَّائِلَ فَقَالَ: «وَقْتُهَا مَا بَيْنَ صَلَاتِيَّ»سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے نمازِ فجر کے وقت کے بارے میں پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”آج اور کل ہمارے ساتھ نماز پڑھو۔“ چنانچہ جب رسول اللہ ﷺ جحفہ کے مقام قاعِ نمرہ میں تھے تو آپ ﷺ نے فجر شروع ہوتے ہی نماز پڑھی، اور جب ذی طویٰ کے مقام پر پہنچے تو نماز مؤخر کر دی، یہاں تک کہ لوگوں نے کہنا شروع کر دیا: کیا رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہو گیا ہے کہ ہم نماز پڑھ لیں؟ آپ ﷺ نے سورج طلوع ہونے سے پہلے نماز پڑھائی، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”تم نے کیا کہا تھا؟“ لوگوں نے عرض کیا: ہم کہہ رہے تھے کہ کاش ہم نماز پڑھ لیتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم ایسا کرتے تو تم پر عذاب آ جاتا۔“ پھر آپ ﷺ نے سوال کرنے والے کو بلایا اور فرمایا: ”اس کا وقت میری ان دونوں نمازوں کے درمیان ہے۔“