المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
زيد بن الخطاب بن نفيل بن عبد العزى بن رباح بن عبد الله بن قرط بن رزاح بن عدي بن كعب " بدري استشهد يوم اليمامة " باب: سیدنا زید بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزیٰ بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب رضی اللہ عنہ، بدری، جنگ یمامہ میں شہید ہوئے
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِزَامٍ الضُّبَعِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عَامِرٍ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ الْكَلْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ نَحْوَ الْمَقَابِرِ، فَقَعَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَبْرٍ، فَرَأَيْنَاهُ كَأَنَّهُ يُنَاجِي، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الدُّمُوعَ مِنْ عَيْنَيْهِ، فَتَلَقَّاهُ عُمَرُ رَحِمَهُ اللهُ وَكَانَ أَوَّلَنَا، فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: «إِنِّي اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّي وَكَانَتْ وَالِدَةً وَلَهَا قِبَلِي حَقُّ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَنَهَانِي» ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيْنَا أَنِ اجْلِسُوا، فَجَلَسْنَا فَقَالَ: «إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أنْ يَزُورَ فَلْيَزُرْ، وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا مَا بَدَا لَكُمْ، وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ظُرُوفٍ وَأَمَرْتُكُمْ بِظُرُوفٍ فَانْتَبِذُوا، فَإِنَّ الْآنِيَةَ لَا تَحِلُّ شَيْئًا وَلَا تُحَرِّمُهُ وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكِرٍ»سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: … ہم نے دیکھا کہ آپ ﷺ گویا کچھ سرگوشی کر رہے ہیں، پھر رسول اللہ ﷺ اٹھے تو اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھ رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، جو ہم میں سب سے آگے تھے، آپ ﷺ سے ملے اور عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کو کس چیز نے رلا دیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل سے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی، وہ میری ماں تھیں اور ان کا مجھ پر حق تھا کہ میں ان کے لیے استغفار کروں، تو مجھے اجازت نہ ملی۔“ پھر آپ ﷺ نے ہمیں اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ، تو ہم بیٹھ گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب جو چاہے زیارت کرے۔ اور میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع کیا تھا، اب جتنا چاہو کھاؤ اور ذخیرہ کرو۔ اور میں نے تمہیں بعض برتنوں سے منع کیا تھا اور بعض دوسرے برتنوں کا حکم دیا تھا، اب جس برتن میں چاہو نبیذ بناؤ، کیونکہ برتن نہ کسی چیز کو حلال کرتا ہے نہ حرام، لیکن ہر نشہ آور چیز سے بچو۔“