المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
زيد بن الخطاب بن نفيل بن عبد العزى بن رباح بن عبد الله بن قرط بن رزاح بن عدي بن كعب " بدري استشهد يوم اليمامة " باب: سیدنا زید بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزیٰ بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب رضی اللہ عنہ، بدری، جنگ یمامہ میں شہید ہوئے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ، ثنا عَمِّي، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمًا، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَمْلَ»
فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: مَا كُنْتُ أَدَعُ حَيَّةً إِلَّا قَتَلْتُهَا حَتَّى رَآنِي أَبُو لُبَابَةَ بْنُ الْمُنْذِرِ، وَزَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَأَنَا أُطَالِبُ حَيَّةً مِنْ حَيَّاتِ الْبُيُوتِ، فَنَهَيَانِي عَنْ قَتْلِهَا، فَقُلْتُ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِنَّ» فَقَالَا: «إِنَّهُ قَدْ نَهَى عَنْ قَتْلِ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ»سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”دو دھاری اور دم کٹے سانپ کو مار ڈالو، کیونکہ یہ دونوں بینائی زائل کر دیتے ہیں اور حمل گرا دیتے ہیں۔“
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں کوئی سانپ نہیں چھوڑتا تھا مگر اسے مار ڈالتا، یہاں تک کہ ابولبابہ بن منذر اور زید بن خطاب رضی اللہ عنہما نے مجھے دیکھا کہ میں گھروں میں رہنے والے ایک سانپ کے پیچھے پڑا ہوا ہوں، تو ان دونوں نے مجھے اسے مارنے سے روک دیا۔ میں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے تو انہیں مارنے کا حکم دیا ہے۔ ان دونوں نے کہا: آپ ﷺ نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو مارنے سے منع فرما دیا تھا۔