المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
رعية الجهني ثم السحيمي باب: سیدنا رعیہ جہنی، پھر سحیمی، رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ التَّسْنِيمِيُّ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ رِعْيَةَ السُّحَيْمِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْهِ كِتَابًا فِي أَدِيمٍ أَحْمَرَ، فَرَقَّعَ بِهِ دَلْوَهُ، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَلَمْ يَدَعُوا لَهُ سَارِحَةً وَلَا بَارِحَةً وَلَا أَهْلًا وَلَا مَالًا إِلَّا أَخَذُوهُ، فَأَفْلَتْ عُرْيَانًا عَلَى فَرَسٍ، فَأَتَى ابْنَتَهُ وَهِي مُتَزَوِّجَةٌ فِي بَنِي هِلَالٍ، وَكَانَ مَجْلِسُ الْقَوْمِ بِفِنَاءِ بَابِهَا، فَدَخَلَ مِنْ وَرَاءِ الْبُيُوتِ عَلَيْهَا فَقَالَتْ: مَا لَكَ؟ قَالَ: كُلُّ شَرٍّ قَدْ نَزَلَ بِأَبِيكِ، مَا تُرِكَ لَهُ سَارِحَةٌ وَلَا بَارِحَةٌ وَلَا أَهْلُ وَلَا مَالُ إِلَّا أُخِذَ، قُلْتُ قَدْ دُعِيَتِ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَكَانَتْ قَدْ أَسْلَمَتْ هِي، قَالَ: فَطَرَحْتُ عَلَيْهِ ثَوْبًا، فَخَرَجَ، فَقَالَ: أَيْنَ بَعْلُكِ؟ قَالَتْ: فِي الرَّحْلِ فَأَتَاهُ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ إِذَا غُطِّيَ بِهِ رَأْسُهُ انْكَشَفَتِ اسْتُهُ، وَإِنْ غُطِّيَ اسْتُهُ انْكَشَفَ رَأْسُهُ، فَقَالَ: مَا الَّذِي أَرَى بِكَ؟ قَالَ: كُلُّ الشَّرِّ قَدْ نَزَلَ بِي، فَأَعَادَ الْكَلَامَ عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا قَالَ لِابْنَتِهِ، قَالَ: وَأَنَا أُرِيدُ مُحَمَّدًا قَبْلَ أنْ يُقسِّمَ مَالِي، قَالَ: خُذْ رَاحِلَتِي، قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي بِهَا، وَلَكِنْ أَعْطِنِي الْقَعُودِ، قَالَ: فَأَخَذَهَا وَمَضَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ مَعَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَهُوَ يُصَلِّي، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: ابْسُطْ يَدَيْكَ أُبَايِعُكَ، فَبَسَطَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، فَلَمَّا أَرَادَ أنْ يَضْرِبَ عَلَيْهَا، قَبَضَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «مَنْ أَنْتَ؟» قَالَ: رِعْيَةُ السُّحَيْمِيُّ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَضُدِهِ، فَرَفَعَهُ مِنَ الْأَرْضِ، ثُمَّ قَالَ: «هَا هَذَا رِعْيَةُ السُّحَيْمِي كَتَبْتُ إِلَيْهِ كِتَابًا، فَرَقَّعَ بِهِ دَلْوَهُ» ، وَقَالَ رَعْيَةُ: مَالِي وَوَلَدِي، قَالَ: «أَمَّا مَالَكُ فَهَيْهَاتَ قَدْ قُسِّمَ، وَأَمَّا وَلَدُكَ وَأَهْلُكَ فَمَنْ أَصَبْتَ مِنْهُمْ» ، قَالَ: فَمَضَى ثُمَّ عَادَ، وَإِذَا ابْنُهُ قَدْ عَرَفَ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَذَا ابْنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بِلَالُ اخْرُجْ مَعَهُ، فَإِنْ زَعَمَ أَنَّهُ ابْنُهُ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ» ، فَخَرَجَ مَعَهُ، فَقَالَ: هَذَا ابْنِي فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ، وَأَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ذَكَرَ أَنَّهُ ابْنُهُ، وَمَا رَأَيْتُ وَاحِدًا مِنْهُمُ اسْتَعْبَرَ إِلَى صَاحِبِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكَ جَفَاءُ الْأَعْرَابِ»نبی کریم ﷺ نے رعیہ سحیمی کو ایک سرخ چمڑے پر خط لکھ کر بھیجا، تو اس نے اس سے اپنا ڈول ٹھیک کر لیا۔ رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر پہنچی تو آپ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا، انہوں نے اس کے لیے کوئی چرنے والا یا واپس آنے والا جانور، کوئی گھر والا اور کوئی مال نہ چھوڑا مگر سب لے لیا۔ وہ برہنہ حالت میں ایک گھوڑے پر سوار ہو کر بھاگ نکلا اور اپنی بیٹی کے پاس پہنچا، جو بنو ہلال میں بیاہی ہوئی تھی۔ قوم کی مجلس اس کے دروازے کے صحن میں جمی ہوئی تھی، تو وہ گھروں کے پیچھے سے ہو کر اس کے پاس داخل ہوا۔ اس نے کہا: تمہیں کیا ہوا؟ اس نے کہا: تمہارے باپ پر ہر طرح کی مصیبت آن پڑی، اس کے لیے نہ کوئی چرنے والا جانور چھوڑا گیا، نہ لوٹنے والا، نہ کوئی گھر والا اور نہ مال، سب لے لیا گیا۔ (بیٹی نے) کہا: آپ کو تو اسلام کی دعوت دی جا چکی تھی۔ اور وہ خود اسلام قبول کر چکی تھی۔ کہتے ہیں: (بیٹی نے) اس پر ایک کپڑا ڈال دیا، تو وہ باہر نکلا اور پوچھا: تمہارا شوہر کہاں ہے؟ اس نے کہا: کجاوے میں ہے۔ تو وہ اس کے پاس گیا، اس پر ایک ایسا کپڑا تھا کہ اگر سر ڈھانپتا تو سرین کھل جاتی، اور اگر سرین ڈھانپتا تو سر کھل جاتا۔ اس (داماد) نے کہا: میں یہ تمہاری کیا حالت دیکھ رہا ہوں؟ اس نے کہا: مجھ پر ہر طرح کی مصیبت آ پڑی۔ اس نے پھر وہی بات دہرائی جو اپنی بیٹی سے کہی تھی۔ اس نے کہا: اور میں محمد ﷺ کے پاس جانا چاہتا ہوں اس سے پہلے کہ میرا (بچا کھچا) مال بھی تقسیم کر دیا جائے۔ داماد نے کہا: میری سواری لے لو۔ اس نے کہا: مجھے اس کی حاجت نہیں، البتہ مجھے اونٹ کا بچہ دے دو۔ کہتے ہیں: اس نے وہ لے لیا اور نبی کریم ﷺ کی طرف روانہ ہوا۔ وہ فجر کی نماز کے وقت آپ ﷺ کے پاس پہنچا جبکہ آپ ﷺ نماز پڑھا رہے تھے۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو اس نے کہا: اپنا ہاتھ بڑھائیے، میں آپ سے بیعت کرتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ بڑھایا، تو جب وہ اس پر بیعت کرنے لگا تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، ایسا کئی بار کیا، پھر اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”تم کون ہو؟“ اس نے کہا: رعیہ سحیمی۔ نبی کریم ﷺ نے اس کا بازو پکڑا اور اسے زمین سے اٹھایا، پھر فرمایا: ”یہ ہے رعیہ سحیمی، میں نے اسے ایک خط لکھ کر بھیجا تھا، اس نے اس سے اپنا ڈول ٹھیک کر لیا۔“ رعیہ نے کہا: میرا مال اور میرا بیٹا (مجھے واپس دلوا دیجیے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا مال تو تقسیم ہو چکا، اب اس کا کوئی امکان نہیں، لیکن تمہارا بیٹا اور تمہارے گھر والے، جس سے مل جاؤ وہ لے لو۔“ کہتے ہیں: وہ گیا پھر واپس آیا تو اس کا بیٹا اسے پہچان چکا تھا، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لوٹا اور کہا: یہ میرا بیٹا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلال! اس کے ساتھ جاؤ، اگر یہ اسے اپنا بیٹا بتائے تو اسے اس کے حوالے کر دو۔“ چنانچہ وہ اس کے ساتھ گئے، اس نے کہا: یہ میرا بیٹا ہے، تو اسے اس کے حوالے کر دیا گیا، اور وہ نبی کریم ﷺ کی طرف لوٹے اور بتایا کہ اس نے اسے اپنا بیٹا بتایا ہے، اور میں نے ان دونوں میں سے کسی کو دوسرے کے لیے آنسو بہاتے نہیں دیکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ دیہاتیوں کی سختی ہے۔“