حدیث نمبر: 4620
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ التَّسْنِيمِيُّ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ رِعْيَةَ السُّحَيْمِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْهِ كِتَابًا فِي أَدِيمٍ أَحْمَرَ، فَرَقَّعَ بِهِ دَلْوَهُ، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَلَمْ يَدَعُوا لَهُ سَارِحَةً وَلَا بَارِحَةً وَلَا أَهْلًا وَلَا مَالًا إِلَّا أَخَذُوهُ، فَأَفْلَتْ عُرْيَانًا عَلَى فَرَسٍ، فَأَتَى ابْنَتَهُ وَهِي مُتَزَوِّجَةٌ فِي بَنِي هِلَالٍ، وَكَانَ مَجْلِسُ الْقَوْمِ بِفِنَاءِ بَابِهَا، فَدَخَلَ مِنْ وَرَاءِ الْبُيُوتِ عَلَيْهَا فَقَالَتْ: مَا لَكَ؟ قَالَ: كُلُّ شَرٍّ قَدْ نَزَلَ بِأَبِيكِ، مَا تُرِكَ لَهُ سَارِحَةٌ وَلَا بَارِحَةٌ وَلَا أَهْلُ وَلَا مَالُ إِلَّا أُخِذَ، قُلْتُ قَدْ دُعِيَتِ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَكَانَتْ قَدْ أَسْلَمَتْ هِي، قَالَ: فَطَرَحْتُ عَلَيْهِ ثَوْبًا، فَخَرَجَ، فَقَالَ: أَيْنَ بَعْلُكِ؟ قَالَتْ: فِي الرَّحْلِ فَأَتَاهُ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ إِذَا غُطِّيَ بِهِ رَأْسُهُ انْكَشَفَتِ اسْتُهُ، وَإِنْ غُطِّيَ اسْتُهُ انْكَشَفَ رَأْسُهُ، فَقَالَ: مَا الَّذِي أَرَى بِكَ؟ قَالَ: كُلُّ الشَّرِّ قَدْ نَزَلَ بِي، فَأَعَادَ الْكَلَامَ عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا قَالَ لِابْنَتِهِ، قَالَ: وَأَنَا أُرِيدُ مُحَمَّدًا قَبْلَ أنْ يُقسِّمَ مَالِي، قَالَ: خُذْ رَاحِلَتِي، قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي بِهَا، وَلَكِنْ أَعْطِنِي الْقَعُودِ، قَالَ: فَأَخَذَهَا وَمَضَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ مَعَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَهُوَ يُصَلِّي، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: ابْسُطْ يَدَيْكَ أُبَايِعُكَ، فَبَسَطَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، فَلَمَّا أَرَادَ أنْ يَضْرِبَ عَلَيْهَا، قَبَضَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «مَنْ أَنْتَ؟» قَالَ: رِعْيَةُ السُّحَيْمِيُّ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَضُدِهِ، فَرَفَعَهُ مِنَ الْأَرْضِ، ثُمَّ قَالَ: «هَا هَذَا رِعْيَةُ السُّحَيْمِي كَتَبْتُ إِلَيْهِ كِتَابًا، فَرَقَّعَ بِهِ دَلْوَهُ» ، وَقَالَ رَعْيَةُ: مَالِي وَوَلَدِي، قَالَ: «أَمَّا مَالَكُ فَهَيْهَاتَ قَدْ قُسِّمَ، وَأَمَّا وَلَدُكَ وَأَهْلُكَ فَمَنْ أَصَبْتَ مِنْهُمْ» ، قَالَ: فَمَضَى ثُمَّ عَادَ، وَإِذَا ابْنُهُ قَدْ عَرَفَ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَذَا ابْنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بِلَالُ اخْرُجْ مَعَهُ، فَإِنْ زَعَمَ أَنَّهُ ابْنُهُ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ» ، فَخَرَجَ مَعَهُ، فَقَالَ: هَذَا ابْنِي فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ، وَأَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ذَكَرَ أَنَّهُ ابْنُهُ، وَمَا رَأَيْتُ وَاحِدًا مِنْهُمُ اسْتَعْبَرَ إِلَى صَاحِبِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكَ جَفَاءُ الْأَعْرَابِ»
ترجمہ

… رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ بڑھایا، تو جب اس پر بیعت کرنے لگے تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، ایسا کئی بار کیا، پھر اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”تم کون ہو؟“ اس نے کہا: رعیہ سحیمی۔ نبی کریم ﷺ نے اس کا بازو پکڑا اور اسے زمین سے اٹھایا، پھر فرمایا: ”یہ ہے رعیہ سحیمی، میں نے اسے ایک خط لکھ کر بھیجا تھا، اس نے اس سے اپنا ڈول ٹھیک کر لیا۔“ رعیہ نے کہا: میرا مال اور میرا بیٹا (مجھے واپس دلوا دیجیے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا مال تو تقسیم ہو چکا، اب اس کا کوئی امکان نہیں، لیکن تمہارا بیٹا اور تمہارے گھر والے، جس سے مل جاؤ وہ لے لو۔“ کہتے ہیں: وہ گیا پھر واپس آیا تو اس کا بیٹا اسے پہچان چکا تھا، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لوٹا اور کہا: یہ میرا بیٹا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلال! اس کے ساتھ جاؤ، اگر یہ اسے اپنا بیٹا بتائے تو اسے اس کے حوالے کر دو۔“ چنانچہ وہ اس کے ساتھ گئے، اس نے کہا: یہ میرا بیٹا ہے، تو اسے اس کے حوالے کر دیا گیا، اور وہ نبی کریم ﷺ کی طرف لوٹے اور بتایا کہ اس نے اسے اپنا بیٹا بتایا ہے، اور میں نے ان دونوں میں سے کسی کو دوسرے کے لیے آنسو بہاتے نہیں دیکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ دیہاتیوں کی سختی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4620
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 78، حدیث 4635