المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
رسيم العبدي باب: سیدنا رسیم عبدی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَعُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، قَالَا ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ غَسَّانَ، عَنْ ابْنِ الرَّسِيمِ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ مِنْ أَهْلِ هَجَرَ، وَكَانَ فَقِيهًا، أَنَّهُ انْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدٍ بِصَدَقَةٍ، فَحَمَلَهَا إِلَيْهِ، فَنَهَاهُمْ عَنِ النَّبِيذِ فِي هَذِهِ الظُّرُوفِ، فَرَجَعُوا إِلَى أَرْضِهِمْ، وَهِي أَرْضُ تِهَامَةَ حَارَّةً، فَاسْتَوْخَمُوا فَرَجَعُوا إِلَيْهِ الْعَامَ الثَّانِيَ فِي صَدَقَاتِهِمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّكَ نَهَيْتَنَا عَنْ هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ، فَتَرَكْنَاهَا فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْنَا فَقَالَ: «اذْهَبُوا فَاشْرَبُوا مَا شِئْتُمْ وَلَا تَشْرَبُوا مَا أُوكِيَ سِقَاؤُهُ عَلَى إِثْمٍ»سیدنا رسیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے - جو اہلِ ہجر میں سے تھے اور فقیہ تھے - کہ وہ ایک وفد کے ساتھ صدقہ لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور صدقہ آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا، تو آپ ﷺ نے انہیں ان (خاص) برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرما دیا۔ وہ اپنی سرزمین کو واپس لوٹے، اور وہ تہامہ کی گرم زمین تھی، تو وہ وہاں بیمار ہو گئے، پھر وہ دوسرے سال اپنے صدقات لے کر آپ ﷺ کے پاس واپس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ہمیں ان برتنوں (میں نبیذ بنانے) سے منع فرمایا تھا، تو ہم نے انہیں چھوڑ دیا، جو ہم پر گراں گزرا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ، جو چاہو پیو، لیکن جس کا مشکیزہ (اتنی دیر) بند رکھا جائے کہ وہ گناہ (کی حد تک نشہ آور) ہو جائے، اسے مت پیو۔“