المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ربيعة بن الغاز الجرشي ويقال ابن عمرو " وهو جد هشام بن الغاز " باب: سیدنا ربیعہ بن غاز جرشی رضی اللہ عنہ، انہیں ابن عمرو بھی کہا گیا ہے، اور یہ ہشام بن غاز کے دادا ہیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَامٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ قَالَا: ثنا رَيْحَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيَّ يَقُولُ: إِنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ فَقِيلَ لَهُ: لِتَنَمْ عَيْنُكَ وَلْتَسْمَعْ أُذُنُكَ وَلْيَعْقِلْ قَلْبِكَ قَالَ: «فَنَامَتْ عَيْنِي وَسَمِعَتْ أُذُنِي وَعَقَلَ قَلْبِي» قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: «سَيِّدٌ بَنَى دَارًا وَصَنَعَ مَأْدُبَةً فَأَرْسَلَ دَاعِيًا فَمَنْ أَجَابَ الدَّاعِيَ دَخَلَ الدَّارَ، وَأَكَلَ مِنَ الْمَأْدُبَةِ، وَرَضِيَ عَنْهُ السَّيِّدُ، وَمَنْ لَمْ يَجِبِ الدَّاعِيَ لَمْ يَدْخُلِ الدَّارَ، وَلَمْ يَنَلِ الْمَأْدُبَةَ، وَسَخِطَ عَلَيْهِ السَّيِّدُ، فَالسَّيِّدُ اللهُ، وَالدَّاعِي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْمَأْدُبَةُ الْجَنَّةُ»…انہوں نے سنا کہ سیدنا ربیعہ جرشی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اللہ ﷺ کے پاس (خواب میں) آیا گیا اور آپ ﷺ سے کہا گیا: تیری آنکھ سو جائے، تیرا کان سنے اور تیرا دل سمجھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو میری آنکھ سو گئی، میرے کان نے سنا اور میرے دل نے سمجھا۔“ راوی کہتے ہیں: تو آپ ﷺ سے کہا گیا: ”ایک بادشاہ نے ایک گھر بنایا اور ایک دعوت تیار کی، پھر ایک بلانے والا بھیجا، تو جس نے بلانے والے کی بات مانی وہ گھر میں داخل ہوا اور دعوت سے کھایا، اور بادشاہ اس سے راضی ہوا، اور جس نے بلانے والے کی بات نہ مانی وہ گھر میں داخل نہ ہوا اور دعوت نہ پا سکا، اور بادشاہ اس سے ناراض ہوا۔ تو بادشاہ اللہ ہے، اور بلانے والا محمد ﷺ ہیں، اور دعوت جنت ہے۔“