حدیث نمبر: 4530
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «اجْمَعْ قَوْمَكَ» فَجَمَعَهُمْ عِنْدَ بَيْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُدْخِلُهُمْ عَلَيْكَ أَوْ تَخْرُجُ إِلَيْهِمْ؟ فَقَالَ: «لَا بَلْ أَخْرُجُ إِلَيْهِمْ» فَأَتَاهُمْ فَقَامَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: «هَلْ فِيكُمْ غَيْرُكُمْ؟» فَقَالُوا: نَعَمْ، فِينَا حُلَفَاؤُنَا وَفِينَا أَبْنَاءُ إِخْوَتِنَا وَفِينَا مَوَالِينَا فَقَالَ: «حَلِيفُنَا مِنَّا وَابْنُ أَخِينَا مِنَّا» قَالَ: «أَنْتُمْ تَسْمَعُونَ إِنَّ أَوْلِيَائِيَ مِنْكُمُ الْمُتَّقُونَ، فَإِنْ كُنْتُمْ أُولَئِكَ فَذَلِكَ وَإِلَّا فَانْظُرُوا، لَا يَأْتِ النَّاسُ بِالْأَعْمَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَتَأْتُونَ بِأثْقَالٍ فَأَعْرِضُ عَنْكُمْ» ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ وَهُوَ قَائِمٌ وَهُمْ قُعُودٌ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ قُرَيْشًا أَهْلُ أَمَانَةٍ وَمَنْ بَغَاهُمْ الْعَوَاثِرَ أَكَبَّهُ اللهُ لِمَنْخِرِهِ» قَالَهَا ثَلَاثًا ،
ترجمہ

…رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اپنی قوم کو جمع کرو۔“ تو انہوں نے انہیں رسول اللہ ﷺ کے گھر کے پاس جمع کیا، پھر آپ ﷺ کے پاس داخل ہو کر کہا: یا رسول اللہ! کیا میں انہیں آپ کے پاس لاؤں یا آپ ان کے پاس تشریف لائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ میں خود ان کے پاس جاتا ہوں۔“ تو آپ ﷺ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے کھڑے ہو کر فرمایا: ”کیا تم میں اپنے علاوہ کوئی اور بھی ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، ہم میں ہمارے حلیف بھی ہیں، ہمارے بھتیجے بھی، اور ہمارے آزاد کردہ غلام بھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارا حلیف ہم میں سے ہے، اور ہمارا بھتیجا ہم میں سے ہے۔“ فرمایا: ”تم سن رہے ہو، بےشک تم میں سے میرے قریبی وہی ہیں جو متقی ہوں، اگر تم وہی ہو تو ٹھیک ہے، ورنہ دیکھ لو، کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ اپنے نیک اعمال لے کر آئیں اور تم بوجھ لے کر آؤ، تو میں تم سے منہ موڑ لوں۔“ پھر آپ ﷺ نے، جبکہ آپ ﷺ کھڑے تھے اور وہ بیٹھے تھے، اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: ”اے لوگو! بےشک قریش امانت والے لوگ ہیں، اور جو ان کے لیے ٹھوکریں چاہے، اللہ اسے اوندھے منہ گرا دے۔“ آپ ﷺ نے یہ بات تین بار فرمائی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4530
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 45، حدیث 4545