المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
رفاعة بن رافع الزرقي الأنصاري عقبي بدري باب: سیدنا رفاعہ بن رافع زرقی انصاری رضی اللہ عنہ، بیعت عقبہ اور بدر میں شریک
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ خُثَيْمٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ عُبَيْدٍ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «اجْمَعْ لِي قَوْمَكَ يَا عُمَرُ» فَجَمَعَهُمْ، فَلَمَّا أَنْ حَضَرُوا بَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ، فَقَالَ: قَدْ جَمَعْتُ لَكَ قَوْمِي، فَسَمِعَ ذَلِكَ الْأَنْصَارُ، فَقَالَ: قَدْ نَزَلَ فِي قُرَيْشٍ الْوَحْيُ، فَجَاءَ الْمُسْتَمِعُ وَالناظرُ مَا يَقُولُ لَهُمْ؟ فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ فَقَالَ: «هَلْ فِيكُمْ مِنْ غَيْرِكُمْ؟» قَالُوا: نَعَمْ، فِينَا حَلِيفُنَا وَابْنُ أُخْتِنَا وَمَوْلَانَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ: «حَلِيفُنَا مِنَّا وَابْنُ أُخْتِنَا مِنَّا، وَمَوْلَانَا مِنَّا، أَنْتُمْ تَسْمَعُونَ، إِنَّ أَوْلِيَائِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُتَّقُونَ، فَإِنْ كُنْتُمْ أُولَئِكَ فَذَاكَ وَإِلَّا فَانْظُرُوا لَا يَأْتِ النَّاسُ بِالْأَعْمَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَتَأْتُونَ بِالْأَثْقَالِ، فَيُعْرَضُ عَنْكُمْ» ثُمَّ نَادَى فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ قُرَيْشًا أَهْلُ أَمَانَةٍ مَنْ بَغَاهُمُ الْغَوَائِرَ أَوِ الْعَوَاثِرَ - قَالَ زُهَيْرٌ: وَأَظُنُّهَا الْعَوَاثِرَ - كَبَّهُ اللهُ لمَنْخِرِهِ " قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ…سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے عمر! میرے لیے اپنی قوم کو جمع کرو۔“ تو انہوں نے انہیں جمع کیا، جب وہ رسول اللہ ﷺ کے دروازے پر حاضر ہوئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس داخل ہوئے اور کہا: میں نے آپ کے لیے اپنی قوم جمع کر دی ہے، تو انصار نے یہ سن لیا، تو کہا: قریش پر وحی نازل ہوئی ہے، تو سننے اور دیکھنے والے آئے کہ آپ ﷺ ان سے کیا فرماتے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور ان کے درمیان کھڑے ہو کر فرمایا: ”کیا تم میں اپنے علاوہ کوئی اور بھی ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، ہم میں ہمارا حلیف بھی ہے، ہماری بہن کا بیٹا بھی، اور ہمارا آزاد کردہ غلام بھی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارا حلیف ہم میں سے ہے، ہماری بہن کا بیٹا ہم میں سے ہے، اور ہمارا آزاد کردہ غلام ہم میں سے ہے، تم سن رہے ہو، بےشک قیامت کے دن میرے قریبی وہی ہیں جو متقی ہوں، اگر تم وہی ہو تو ٹھیک ہے، ورنہ دیکھ لو، کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ اپنے نیک اعمال لے کر آئیں اور تم بوجھ لے کر آؤ، تو تم سے منہ موڑ لیا جائے۔“ پھر آپ ﷺ نے پکار کر فرمایا: ”اے لوگو! بےشک قریش امانت والے لوگ ہیں، جو ان کے لیے مصیبتیں یا ٹھوکریں چاہے - زہیر کہتے ہیں: اور میرا خیال ہے کہ ٹھوکریں ہی صحیح ہے - اللہ اسے اوندھے منہ گرا دے۔“ آپ ﷺ نے یہ بات تین بار فرمائی۔