المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
رفاعة بن عبد المنذر أبو لبابة الأنصاري " من بني عمرو بن عوف، ثم من بني أمية بن زيد ويقال بشر بن عبد المنذر، ويقال بشير بن عبد المنذر " باب: سیدنا رفاعہ بن عبدالمنذر ابولبابہ انصاری رضی اللہ عنہ (بنو عمرو بن عوف سے، پھر بنو امیہ بن زید سے تعلق رکھتے تھے، انہیں بشر بن عبدالمنذر اور بشیر بن عبدالمنذر بھی کہا گیا ہے)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ أَبِي نَهِيكٍ، يَقُولُ: بَيْنَمَا أَنَا وَاقِفٌ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ السَّائِبِ بْنِ أَبِي السَّائِبِ إِذْ مَرَّ بِنَا أَبُو لُبَابَةَ، فَاتَّبَعْنَاهُ حَتَّى دَخَلَ بَيْتِهُ، فَاسْتَأْذَنَّاهُ فَأَذِنَ لَنَا، فَإِذَا رَثُّ الْمَتَاعِ رَثُّ الْحَالِ فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ فَانْتَسَبْنَا لَهُ، فَقَالَ: مَرْحَبًا وَأَهْلًا تُجَّارٌ كَسَبَةٌ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ» قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: فَقُلْتُ: يَا مُحَمَّدُ، أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَكُنْ حَسَنَ الصَّوْتِ؟ قَالَ: «يُحَسِّنُهُ مَا اسْتَطَاعَ»عبیداللہ بن ابی نہیک رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں اور عبداللہ بن سائب بن ابی سائب کھڑے تھے کہ سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرے، تو ہم ان کے پیچھے چلے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہو گئے، ہم نے ان سے اجازت مانگی تو انہوں نے ہمیں اجازت دے دی، تو دیکھا کہ سامان بوسیدہ اور حالت خستہ تھی، تو انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ ہم نے انہیں اپنا تعارف کرایا، تو انہوں نے کہا: خوش آمدید، تاجر اور کمانے والے۔ پھر میں نے انہیں یہ فرماتے سنا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ہم میں سے نہیں جو قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے۔“ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے محمد! اگر کسی کی آواز اچھی نہ ہو تو کیا حکم ہے؟ فرمایا: ”جتنی اس سے ہو سکے وہ اسے اچھا بنائے۔“