المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
رفاعة بن عبد المنذر أبو لبابة الأنصاري " من بني عمرو بن عوف، ثم من بني أمية بن زيد ويقال بشر بن عبد المنذر، ويقال بشير بن عبد المنذر " باب: سیدنا رفاعہ بن عبدالمنذر ابولبابہ انصاری رضی اللہ عنہ (بنو عمرو بن عوف سے، پھر بنو امیہ بن زید سے تعلق رکھتے تھے، انہیں بشر بن عبدالمنذر اور بشیر بن عبدالمنذر بھی کہا گیا ہے)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَابَهْرَامَ الْأَيْذَجِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَاصِمُ بْنُ سُوَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ: «كَيْفَ تُقَاتِلُونَ الْقَوْمَ إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ؟» فَقَامَ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِذَا كَانَ الْقَوْمُ مِنَّا حَيْثُ يَنَالُهُمُ النَّبْلُ، كَانَتِ الْمُرَامَاةُ بِالنَّبْلِ، فَإِذَا اقْتَرَبُوا حَتَّى يَنَالَنَا وَإِيَّاهُمُ الْحِجَارَةُ، كَانَتِ الْمُرَاضَخَةُ بِالْحِجَارَةِ، فَأَخَذَ ثَلَاثَةَ أَحْجَارٍ فِي يَدَهِ وحَجَرَيْنِ فِي حِزْمَتِهِ، فَإِذَا اقْتَرَبُوا حَتَّى يَنَالَنَا وَإِيَّاهُمُ الرَّمَّاحُ، كَانَتِ الْمُدَاعَسَةُ بِالرِّمَاحِ، فَإِذَا انْقَضَتِ الرِّمَاحُ، كَانَتِ الْجِلَادُ بِالسُّيُوفِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِهَذَا أُنْزِلَتِ الْحَرْبُ، مَنْ قَاتَلَ فلْيُقَاتِلْ قِتَالَ عَاصِمٍ»محمد بن حجاج رحمہ اللہ اپنے والد سے، وہ اپنے والد (سائب بن ابی لبابہ) سے بیان کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن فرمایا: ”جب تمہارا دشمن سے سامنا ہو تو تم ان سے کیسے لڑو گے؟“ تو عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! جب دشمن ہم سے اتنے فاصلے پر ہو کہ تیر پہنچ سکے تو تیروں سے مقابلہ ہوگا، پھر جب وہ اتنے قریب آ جائیں کہ ہم اور وہ پتھروں کی زد میں آ جائیں تو پتھروں سے مقابلہ ہوگا - انہوں نے تین پتھر اپنے ہاتھ میں اور دو پتھر اپنے تھیلے میں رکھے - پھر جب وہ اتنے قریب آ جائیں کہ ہم اور وہ نیزوں کی زد میں آ جائیں تو نیزوں سے مقابلہ ہوگا، پھر جب نیزے ختم ہو جائیں تو تلواروں سے مقابلہ ہوگا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنگ اسی طرح اتاری گئی ہے، جو لڑے وہ عاصم کی طرح لڑے۔“