المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
رويفع بن ثابت الأنصاري باب: سیدنا رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ، أَنَّ شِيَيْمَ بْنَ بَيْتَانَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ شَيْبَانَ بْنَ قَيْسٍ الْقِتْبَانِيَّ، يَقُولُ: اسْتَخْلَفَ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ رُوَيْفِعَ بْنَ ثَابِتٍ عَلَى أَسْفَلِ الْأَرْضِ قَالَ شَيْبَانُ بْنُ قَيْسٍ: فَسَرْنَا مَعَهُ، قَالَ: فَأَخْبَرَنِي رُوَيْفِعُ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: كَانَ أَحَدُنَا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ نِضْوَ أَخِيهِ عَلَى أَنْ يُعْطِيَهُ النِّصْفَ مِمَّا يَغْنَمُ وَلَهُ النِّصْفُ حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَطِيرُ لَهُ النَّصْلُ وَالرِّيشُ وَالْآخَرَ الْقَدَحُ، ثُمَّ قَالَ لِي رُوَيْفِعٌ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا رُوَيْفِعُ لَعَلَّ الْحَيَاةَ سَتَطُولُ بِكَ بَعْدِي، فَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّهُ مَنْ عَقَدَ لِحْيَتَهُ أَوْ تَقَلَّدَ وَتَرًا أَوِ اسْتَنْجَى بِرَجِيعِ دَابَّتِهِ أَوْ بِعَظْمٍ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِيءٌ مِنْهُ»شیبان بن قیس قتبانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: محمد بن مخلد نے سیدنا رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ کو زمین کے نچلے حصے (مصر کے زیریں علاقے) پر اپنا نائب مقرر کیا، شیبان بن قیس کہتے ہیں: تو ہم ان کے ساتھ روانہ ہوئے، پھر مجھے سیدنا رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بتایا، وہ کہتے ہیں: ہم میں سے کوئی رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اپنے بھائی کا لاغر اونٹ اس شرط پر لیتا کہ وہ اسے مالِ غنیمت کا آدھا حصہ دے گا اور آدھا خود رکھے گا، یہاں تک کہ ہم میں سے کسی کو تیر کا پیکان اور پر ملتا اور دوسرے کو تیر کی لکڑی (ڈنڈی) ملتی۔ پھر سیدنا رویفع رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے رویفع! ہو سکتا ہے میرے بعد تمہاری زندگی طویل ہو جائے، تو لوگوں کو بتا دینا کہ جس نے اپنی داڑھی کو گانٹھ لگائی، یا کمان کی تانت گلے میں ڈالی، یا اپنے جانور کی مینگنی یا ہڈی سے استنجا کیا، تو محمد ﷺ اس سے بری ہیں۔“