حدیث نمبر: 4475
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَكَرِيَّا الْأَيَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ إِسْحَاقِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْعَدَوِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حُذَيْفَةَ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ يَنْهَى أنْ تُوطَأَ الْحَامِلُ حَتَّى تَضَعَ وَقَالَ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ يَزِيدُ فِي سَمْعِهِ وَفِي بَصَرِهِ» وَأَنْ تُوطَأَ السَّبَايَا حَتَّى يَطْهُرْنَ
ثُمَّ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَرِبَا الْغُلُولِ» قُلْنَا: وَمَا رِبَا الْغُلُولِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «أَنْ يُصِيبَ أَحَدُكُمُ الثَّوْبَ فَيَلْبَسَهُ حَتَّى يَذْهَبَ عَيْنُهُ ثُمَّ يُلْقِيهِ فِي الْمَغْنَمِ وَالدَّوَابَّ يَرْكَبُهَا حَتَّى يُحْسِرَهَا ثُمَّ يَأْتِيَ بِهَا إِلَى الْمَغْنَمِ»
ترجمہ

سیدنا رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو حاملہ عورت سے وضع حمل تک مباشرت کرنے سے منع کرتے سنا، اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اس سے پرہیز کرنے میں اپنی سماعت اور بصارت میں اضافہ کر لیتا ہے۔“ اور قیدی عورتوں سے بھی جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں مباشرت سے منع فرمایا۔
پھر فرمایا: ”خیانت کے سود سے بچو۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! خیانت کا سود کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کہ تم میں سے کسی کو کپڑا ملے تو وہ اسے اتنا پہنے کہ اس کی رونق ختم ہو جائے، پھر اسے مالِ غنیمت میں ڈال دے، اور جانوروں کو اتنا سوار ہو کہ وہ تھک جائیں، پھر انہیں مالِ غنیمت میں لے آئے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4475
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 28، حدیث 4490