المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الرحمن بن أبي نعم، عن رافع باب: عبدالرحمن بن ابی نعم کی سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 4428
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا بُكَيْرُ بْنُ عَامِرٍ الْبَجَلِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي نُعْمٍ، ثنا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، أَنَّهُ زَرَعَ أَرْضًا فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْقِيهَا فَقَالَ: «لِمَنِ الزَّرْعُ وَلِمَنِ الْأَرْضُ؟» ، فَقَالَ: زَرْعِي بِيَدِي وَعَمَلِي مِنَ الشَّطْرِ وَلِبَنِي فُلَانٍ الشَّطْرُ، فَقَالَ: «أَرْبَيْتَ فَرُدَّ الْأَرْضَ إِلَى أَهْلِهَا وَخُذْ نَفَقَتَكَ»ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے ایک زمین میں کاشت کی، تو نبی کریم ﷺ ان کے پاس سے گزرے جبکہ وہ اسے سیراب کر رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”فصل کس کی ہے اور زمین کس کی ہے؟“ انہوں نے کہا: فصل میری ہے، میرے ہاتھ اور محنت سے، آدھا حصہ میرا ہے اور آدھا حصہ فلاں لوگوں کا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے سود کا معاملہ کیا، زمین اس کے مالکوں کو واپس کر دو اور اپنا خرچہ لے لو۔“