حدیث نمبر: 4322
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: «كُنَّا بَنِي حَارِثٍ أَكْثَرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ حَقْلًا، وَكُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ وَنَشْتَرِطُ عَلَى الْأُكْرَةِ أَنَّ مَا سَقَى الْمَاذِيَانَاتِ وَالرَّبِيعَ فَلَنَا وَمَا سَقَتِ الْجَدَاوِلُ فَهُوَ لَكُمْ، فَرُبَّمَا هَلَكَ هَذَا وَسَلِمَ هَذَا، وَرُبَّمَا سَلِمَ هَذَا وَهَلَكَ هَذَا، فَنَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَنَا يَوْمَئِذٍ ذَهَبٌ وَلَا فِضَّةٌ فَنَعْلَمُ ذَلِكَ»
ترجمہ

حنظلہ بن قیس رحمہ اللہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں: ”ہم بنی حارث اہلِ مدینہ میں سب سے زیادہ کھیتی باڑی والے تھے، اور ہم زمین کرایہ پر دیتے اور کاشتکار سے یہ شرط رکھتے کہ جو کچھ نالوں اور نہر سے سیراب ہو وہ ہمارا ہوگا اور جو کچھ چھوٹی نہروں سے سیراب ہو وہ تمہارا ہوگا، تو کبھی یہ ضائع ہو جاتا اور وہ بچ جاتا، اور کبھی یہ بچ جاتا اور وہ ضائع ہو جاتا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا۔ اس زمانے میں ہمارے پاس سونا چاندی نہیں تھا کہ ہم اسے (مقدار سے) جان سکیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4322
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 260، حدیث 4337