المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حنظلة بن قيس، عن رافع باب: حنظلہ بن قیس کی سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 4323
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الزُّرَقِيُّ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: «لَمْ يَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَائِهَا - يَعْنِي الْأَرْضَ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ -، وَلَكِنَّا كُنَّا نُكْرِيهَا، ثُمَّ نَزْرَعُ وَيَكُونُ لَنَا هَذَا الشِّقُّ وَلَهُمْ هَذَا الشِّقُّ، فَمَا أَخْرَجَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هَذَا فَلِهَذَا، وَمَا أَخْرَجَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هَذَا لِهَذَا، فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ»ترجمہ
حنظلہ بن قیس زرقی رحمہ اللہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے زمین کو سونے اور چاندی کے عوض کرایہ پر دینے سے منع نہیں فرمایا تھا، لیکن ہم اسے کرایہ پر دیتے، پھر کھیتی کرتے اور یہ حصہ ہمارا ہوتا اور وہ حصہ ان کا، تو جو اللہ عزوجل اس حصے سے پیدا فرماتا وہ اسی کے لیے ہوتا اور جو اللہ عزوجل دوسرے حصے سے پیدا فرماتا وہ اسی کے لیے ہوتا، تو آپ ﷺ نے ہمیں اس سے منع فرما دیا۔“