المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن المسيب، عن رافع بن خديج باب: سعید بن مسیب کی سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، فَقُلْتُ بَلَغَنَا عَنْكَ شَيْءٌ فِي الْمُزَارَعَةِ، فَقَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَرَى بِهِ بَأْسًا حَتَّى ذَكَرَ لَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ فِيهِ حَدِيثًا فَأَتَى رَافِعًا، فَأَخْبَرَهُ رَافِعٌ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى بَنِي حَارِثَةَ فَرَأَى زَرْعًا فِي أَرْضِ ظُهَيْرٍ، فَقَالَ: «مَا أَحْسَنَ زَرْعِ ظُهَيْرٍ» ، فَقَالُوا: لَيْسَتْ لِظُهَيْرٍ قَالَ: «أَلَيْسَتْ أَرْضَ ظُهَيْرٍ؟» ، قَالُوا: بَلَى وَلَكِنَّهُ زَرْعُ فُلَانٍ قَالَ: «فَرُدُّوا عَلَيْهِ نَفَقَتُهُ وَخُذُوا زَرْعَكُمْ» ، قَالَ رَافِعٌ: فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ نَفَقَتُهُ وَأَخَذْنَا زَرْعَنَا .ابوجعفر خطمی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے پاس آیا، میں نے عرض کیا: ہمیں آپ سے مزارعت کے بارے میں کوئی بات پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما اسے کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے انہیں اس بارے میں ایک حدیث بیان کی، تو وہ رافع کے پاس آئے، رافع نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ بنو حارثہ کے پاس تشریف لائے تو ظہیر کی زمین میں کھیتی دیکھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ظہیر کی کھیتی کتنی اچھی ہے۔“ لوگوں نے عرض کیا: یہ ظہیر کی نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ ظہیر کی زمین نہیں؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن یہ کھیتی فلاں شخص کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے اس کا خرچہ واپس کرو اور اپنی کھیتی لے لو۔“ رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ ہم نے اسے اس کا خرچہ واپس کیا اور اپنی کھیتی لے لی۔