حدیث نمبر: 4252
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، فَقُلْتُ بَلَغَنَا عَنْكَ شَيْءٌ فِي الْمُزَارَعَةِ، فَقَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَرَى بِهِ بَأْسًا حَتَّى ذَكَرَ لَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ فِيهِ حَدِيثًا فَأَتَى رَافِعًا، فَأَخْبَرَهُ رَافِعٌ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى بَنِي حَارِثَةَ فَرَأَى زَرْعًا فِي أَرْضِ ظُهَيْرٍ، فَقَالَ: «مَا أَحْسَنَ زَرْعِ ظُهَيْرٍ» ، فَقَالُوا: لَيْسَتْ لِظُهَيْرٍ قَالَ: «أَلَيْسَتْ أَرْضَ ظُهَيْرٍ؟» ، قَالُوا: بَلَى وَلَكِنَّهُ زَرْعُ فُلَانٍ قَالَ: «فَرُدُّوا عَلَيْهِ نَفَقَتُهُ وَخُذُوا زَرْعَكُمْ» ، قَالَ رَافِعٌ: فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ نَفَقَتُهُ وَأَخَذْنَا زَرْعَنَا .
ترجمہ

...(وہ اسے) کوئی حرج نہیں سمجھتا تھا یہاں تک کہ رافع بن خدیج نے اسے اس بارے میں ایک حدیث بیان کی، تو وہ رافع کے پاس آیا، رافع نے اسے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ بنو حارثہ کے پاس تشریف لائے تو ظہیر کی زمین میں کھیتی دیکھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ظہیر کی کھیتی کتنی اچھی ہے۔“ لوگوں نے عرض کیا: یہ ظہیر کی نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ ظہیر کی زمین نہیں؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن یہ کھیتی فلاں شخص کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے اس کا خرچہ واپس کرو اور اپنی کھیتی لے لو۔“ رافع کہتے ہیں: چنانچہ ہم نے اسے اس کا خرچہ واپس کیا اور اپنی کھیتی لے لی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4252
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 244، حدیث 4267