المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
رافع بن خديج بن رافع الأنصاري يكنى أبا عبد الله من أخباره باب: سیدنا رافع بن خدیج بن رافع انصاری رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعبداللہ، آپ کے واقعات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالُوا: ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ الْوَاشِجِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ جَدَّتِهِ وَهِي امْرَأَةُ رَافِعٍ، أَنَّ رَافِعًا رُمِيَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ أَوْ يَوْمَ خَيْبَرَ - شَكَّ عَمْرٌو - بِسَهْمٍ فِي ثَنْدُوَتِهِ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ انْزِعِ السَّهْمَ قَالَ: «يَا رَافِعُ إِنْ شِئْتَ نَزَعْتُ السَّهْمَ وَالْقُطْبَةَ جَمِيعًا، وَإِنْ شِئْتَ نَزَعْتُ السَّهْمَ وَتَرَكْتُ الْقُطْبَةَ وَشَهِدْتُ لَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّكَ شَهِيدٌ» ، قَالَ: فَنَزَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّهْمَ وَتَرَكَ الْقُطْبَةَ، فَعَاشَ بِهَا حَتَّى كَانَ فِي خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَانْتَقَضَ بِهِ الْجُرْحُ، فَمَاتَ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَأَتَى ابْنُ عُمَرَ فَقِيلَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَاتَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، فَتَرَحَّمَ عَلَيْهِ قَالَ: إِنَّ مِثْلَ رَافِعٍ لَا يُخْرَجُ بِهِ حَتَّى يُؤْذَنَ مَنْ حَوْلَ الْمَدِينَةِ مِنَ الْقُرَى، فَلَمَّا خَرَجْنَا بِجَنَازَتِهِ، فَصُلِّيَ عَلَيْهِ، جَاءَ ابْنُ عُمَرَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى رَأْسِ الْقَبْرِ، فَصَرَخَتْ مَوْلَاةٌ لَنَا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَا لِلسَّفِيهَةِ مِنْ أَحَدٍ لَا تُؤْذِي الشَّيْخَ فَإِنَّهُ لَا يَدِينُ لَهُ بِعَذَابِ اللهِ...اُحد کے دن یا خیبر کے دن — راوی عمرو کو شک ہے — رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے سینے کی ہڈی میں تیر لگا، تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! تیر نکال دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے رافع! اگر تم چاہو تو میں تیر اور اس کا پیکان دونوں نکال دوں، اور اگر چاہو تو میں تیر نکال دوں اور پیکان چھوڑ دوں، اور قیامت کے دن تمہارے لیے گواہی دوں گا کہ تم شہید ہو۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے تیر نکال دیا اور پیکان چھوڑ دیا، تو وہ اس کے ساتھ زندہ رہے یہاں تک کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت میں زخم دوبارہ کھل گیا اور وہ عصر کے بعد فوت ہو گئے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر کہا گیا: اے ابوعبدالرحمن! رافع بن خدیج فوت ہو گئے ہیں، تو انہوں نے ان پر رحمت کی دعا کی اور فرمایا: رافع جیسے شخص کو، جب تک مدینہ کے آس پاس کی بستیوں کے لوگوں کو اطلاع نہ دی جائے، تدفین کے لیے نہیں لے جانا چاہیے۔ چنانچہ جب ہم ان کا جنازہ لے کر نکلے اور نمازِ جنازہ ادا کی گئی، تو ابن عمر آئے اور قبر کے سرہانے بیٹھ گئے، تو ہماری ایک باندی چیخ اٹھی، اس پر ابن عمر نے فرمایا: اس نادان کا کوئی خیال رکھنے والا نہیں! اس بزرگ کو تکلیف نہ دو، کیونکہ اس کا (رونا) اللہ کے عذاب کو اس میت کی طرف متوجہ نہیں کرتا۔