حدیث نمبر: 4215
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانِ بْنِ عَطِيَّةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ ذِي مَخْبَرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «سَتُصَالِحُونَ الرُّومَ صُلْحًا آمِنًا، ثُمَّ تَغْزُونَ أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا، فَتُنْصَرُونَ وَتَغْنَمُونَ وَتَسْلَمُونَ، ثُمَّ تَنْصَرِفُونَ حَتَّى تَنْزِلُوا مَرْجًا ذِي تُلُولٍ فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ النَّصْرَانِيَّةِ صَلِيبًا فَيَقُولُ غَلَبَ الصَّلِيبُ فَيَغْضَبُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَقُومُ إِلَيْهِ فَيَدُقُّهُ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَغْدِرُ الرُّومُ وَيَجْتَمِعُونَ لِلْمَلْحَمَةِ»
ترجمہ

سیدنا ذو مخبر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”عنقریب تم رومیوں سے ایک محفوظ صلح کرو گے، پھر تم اور وہ مل کر ایک مشترکہ دشمن سے جنگ کرو گے، تو تمہیں فتح، غنیمت اور سلامتی ملے گی، پھر تم واپس لوٹو گے یہاں تک کہ ٹیلوں والے ایک سرسبز میدان میں پڑاؤ کرو گے، تو نصرانیت والوں میں سے ایک شخص صلیب اٹھا کر کہے گا: صلیب غالب آ گئی، اس پر مسلمانوں میں سے ایک شخص کو غصہ آئے گا، وہ اس کی طرف بڑھے گا اور اسے توڑ دے گا، اسی وقت رومی غداری کریں گے اور لڑائی کے لیے جمع ہو جائیں گے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الذال / حدیث: 4215
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 235، حدیث 4230