المعجم الكبير للطبراني
باب الذال— حرف ذال سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ذو اليدين ويقال اسمه الخرباق " ويكنى أبا العريان " باب: سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ، کہا گیا ہے کہ ان کا نام خرباق تھا اور کنیت ابوالعریان تھی
حدیث نمبر: 4210
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: سَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ فَدَخَلَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ وَكَانَ طَوِيلَ الْيَدَيْنِ فَقَالَ: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَخَرَجَ مُغْضَبًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ فَقَالَ: «أَصْدَقَ؟» قَالُوا: نَعَمْ، فَقَامَ فَصَلَّى تِلْكَ الرَّكْعَةَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے عصر کی تین رکعتوں میں سلام پھیر دیا، پھر اندر داخل ہو گئے، تو ایک شخص جسے خرباق کہا جاتا تھا اور جس کے ہاتھ لمبے تھے، آپ سے کہنے لگا: کیا نماز کم کر دی گئی ہے، یا رسول اللہ؟ تو آپ ﷺ غصے میں اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے باہر نکلے اور فرمایا: ”کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ کھڑے ہوئے اور وہ رکعت پڑھی — پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔