المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 420–424) باب: (احادیث 420 تا 424)
حدیث نمبر: 420
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيُّ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، يَقُولُ: نُبِّئْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ عِنْدَهُ أُمُّ سَلَمَةَ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَتَحَدَّثَ مَا قَضَى لَهُ، فَلَمَّا قَامَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أُمَّ سَلَمَةَ، مَنْ هَذَا؟» قَالَتْ: دِحْيَةُ. قَالَتْ: وَلَايْمُ اللهِ مَا حَسِبْتُهُ إِلَّا دِحْيَةَ، حَتَّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِخَبَرِ جِبْرِيلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مُعْتَمِرٌ: قَالَ أَبِي لِأَبِي عُثْمَانَ: مِمَّنْ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: مِنْ أُسَامَةَترجمہ
ایک راوی بیان کرتے ہیں: مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں، اتنے میں جبریل علیہ السلام آئے اور آپ کو اللہ کے فیصلے کی خبر دی، جب وہ اٹھ کر گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! یہ کون تھا؟“ انہوں نے کہا: دحیہ۔ وہ کہتی ہیں: اللہ کی قسم میں نے تو انہیں دحیہ ہی سمجھا تھا، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خطبے میں جبریل علیہ السلام کی خبر بیان کرتے سنا۔ معتمر کہتے ہیں: میرے والد نے ابوعثمان سے پوچھا: تم نے یہ کس سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے۔