المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
سن أبي بكر وخطبته، ووفاته رضي الله عنه باب: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عمر، خطبہ اور وفات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ نَمِحَةَ، قَالَ: كَانَ فِي خُطْبَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَمَا تَعْلَمُونَ أَنَّكُمْ تَغْدُونَ وَتَرُوحُونَ لِأَجَلٍ مَعْلُومٍ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْقَضِيَ الْأَجَلُ وَهُوَ فِي عَمَلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلْيَفْعَلْ، وَلَنْ تَنَالُوا ذَلِكَ إِلَّا بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِنَّ قَوْمًا جَعَلُوا آجَالَهُمْ لِغَيْرِهِمْ فَنَهَاكُمُ اللهُ أَنْ تَكُونُوا أمْثَالَهُمْ: {وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللهَ فَأنْسَاهُمْ} [الحشر: ١٩] أَيْنَ مَنْ تَعْرِفُونَ مِنْ إِخْوَانِكُمْ؟ قَدَّمُوا مَا قَدَّمُوا فِي أَيَّامِ سَلَفِهِمْ، وَحَلُّوا فِيهِ بِالشِّقْوَةِ، وَالسَّعَادَةِ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ الْأَوَّلُونَ الَّذِينَ بَنَوُا الْمَدَائِنَ وَحَفَفُوها بِالْحَوَائِطِ، قَدْ صَارُوا تَحْتَ الصَّخْرِ وَالْآبَارِ، هَذَا كِتَابُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا تَفْنَى عَجَائِبُهُ فَاسْتَوْصُوا بِهِ، مِنْهُ لِيَوْمِ ظُلْمَةٍ وَائْتَضِحُوا بِسَائِهِ وَبَيَانِهِ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَثْنَى عَلَى زَكَرِيَّا، وَأَهْلِ بَيْتِهِ فَقَالَ: {كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ، وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ} [الأنبياء: ٩٠] لَا خَيْرَ فِي قَوْلٍ لَا يُرَادَ بِهِ وَجْهُ اللهِ، وَلَا خَيْرَ فِي مَالٍ لَا يُنْفَقُ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ يَغْلِبُ جَهْلُهُ حِلْمَهُ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ يَخَافُ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ "نعیم بن نمحہ بیان کرتے ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خطبے میں یہ الفاظ تھے: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تم صبح و شام ایک معلوم مدت کی طرف بڑھ رہے ہو؟ پس جو یہ چاہے کہ اس کی مدت اللہ عزوجل کے عمل میں گزر کر ختم ہو تو ایسا ہی کرے، اور تم یہ توفیق اللہ عزوجل ہی کی مدد سے پا سکو گے۔ بیشک ایک قوم نے اپنی مہلتیں دوسروں کے لیے وقف کر دیں تو اللہ نے تمہیں منع فرمایا کہ تم ان جیسے بن جاؤ: ”اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں خود اپنے آپ کو بھلا دیا“ [سورۃ الحشر: 19]۔ تمہارے وہ بھائی کہاں ہیں جنہیں تم جانتے تھے؟ انہوں نے اپنے پیش رو دنوں میں جو کچھ آگے بھیجا سو بھیجا، اور اسی میں بدبختی یا نیک بختی سے ہمکنار ہوئے۔ کہاں ہیں پہلے جبار بادشاہ جنہوں نے شہر بسائے اور انہیں فصیلوں سے گھیرا؟ اب وہ پتھروں اور قبروں کے نیچے جا چکے ہیں۔ یہ اللہ عزوجل کی کتاب ہے، اس کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوتے، سو اسے مضبوطی سے تھامے رکھو، یہ تاریکی کے دن کے لیے چراغ ہے، اس کی نصیحتوں اور اس کی روشن باتوں سے روشنی حاصل کرو۔ بیشک اللہ عزوجل نے زکریا علیہ السلام اور ان کے اہل خانہ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: ”بیشک وہ نیکیوں میں جلدی کرتے تھے اور امید اور خوف کے ساتھ ہمیں پکارتے تھے، اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے“ [سورۃ الانبیاء: 90]۔ اس بات میں کوئی خیر نہیں جس سے اللہ کی رضا مقصود نہ ہو، اور اس مال میں کوئی خیر نہیں جو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کیا جائے، اور اس شخص میں کوئی خیر نہیں جس کی جہالت اس کے حلم پر غالب آ جائے، اور اس شخص میں کوئی خیر نہیں جو اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ڈر جائے۔“