❮
❯
حدیث نمبر: 3839
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: نَزَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا، فَرَأَيْتُهُ إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ أَوْ زَالَتِ الشَّمْسُ أَوْ كَمَا قَالَ: فَإِنْ كَانَ فِي عَمِلٍ مِنَ الدُّنْيَا رَفَضَ بِهِ، وَإِنْ كَانَ نَائِمًا فَكَأَنَّمَا أُوقِظَ، فَيَقُومُ فَيَغْتَسِلُ أَوْ يَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يَرْكَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يُتِمُّهُنَّ ويُحْسِنُهُنَّ ويَتَمَكَّنُ فِيهِنَّ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَنْطَلِقَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَكَ إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ أَوْ زَالَتْ فَإِنْ كَانَ فِي يَدِكَ عَمَلٌ مِنَ الدُّنْيَا رَفَضْتَ أَوْ كُنْتَ نَائِمًا فَكَأَنَّمَا تُوقَظُ، فَتَغْتَسِلُ أَوْ تَتَوَضَّأُ، ثُمَّ تَرْكَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تُتِمُهُّنَّ وتَتَمَكَّنُ فِيهِنَّ وتُحْسِنُهُنَّ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ أَوْ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تُفْتَحْنَ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ فَلَا يُوَافِي أَحَدٌ بِهَذِهِ الصَّلَاةِ فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَصْعَدَ مِنِّي إِلَى رَبِّي فِي تِلْكَ السَّاعَةِ خَيْرٌ»
ترجمہ

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ایک مہینہ میرے ہاں ٹھہرے، تو میں نے دیکھا کہ جب سورج ڈھلتا - یا زوال ہوتا، یا جیسا انہوں نے کہا - تو اگر آپ دنیا کے کسی کام میں ہوتے تو اسے چھوڑ دیتے، اور اگر سوئے ہوتے تو گویا جگا دیے جاتے، پھر آپ اٹھ کر غسل یا وضو کرتے، پھر چار رکعتیں پڑھتے جنہیں پورا کرتے، خوب اچھی طرح ادا کرتے اور ان میں اطمینان اختیار کرتے۔ جب آپ ﷺ نے (میرے ہاں سے) جانے کا ارادہ کیا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں دیکھتا ہوں کہ جب سورج ڈھلتا ہے یا زوال ہوتا ہے تو اگر آپ کے ہاتھ میں دنیا کا کوئی کام ہو تو اسے چھوڑ دیتے ہیں، یا سوئے ہوں تو گویا جگا دیے جاتے ہیں، پھر آپ غسل یا وضو کرتے ہیں، پھر چار رکعتیں پڑھتے ہیں جنہیں پورا کرتے، ان میں اطمینان اختیار کرتے اور خوب اچھی طرح ادا کرتے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس وقت آسمان کے دروازے - یا جنت کے دروازے - کھل جاتے ہیں، اور اس وقت کوئی بھی یہ نماز پڑھنے والا نہیں ہوتا، تو مجھے یہ پسند ہے کہ اس وقت میری طرف سے میرے رب کی طرف کوئی نیکی چڑھے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3839
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 119، حدیث 3854