المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
سن أبي بكر وخطبته، ووفاته رضي الله عنه باب: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عمر، خطبہ اور وفات
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا أَرَادَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ يَسْتَخْلِفَ عُمَرَ بَعَثَ إِلَيْهِ فَدَعَاهُ فَأَتَاهُ، فَقَالَ: «إِنِّي أَدْعُوكَ إِلَى أَمْرٍ مُتْعِبٍ لِمَنْ وَلِيَهُ، فَاتَّقِ اللهَ يَا عُمَرُ بِطَاعَتِهِ، وَأَطِعْهُ بِتَقْوَاهُ، فَإِنَّ الْمُتَّقِيَ آمِنٌ مَحْفُوظٌ، ثُمَّ إِنَّ الْأَمْرَ مَعْرُوضٌ لَا يَسْتَوْجِبُهُ، إِلَّا مَنْ عَمِلَ بِهِ فَمَنْ أَمَرَ بِالْحَقِّ وَعَمِلَ بِالْبَاطِلِ، وَأَمَرَ بِالْمَعْرُوفِ، وَعَمِلَ بِالْمُنْكِرِ يُوشِكُ أَنَّ تَنْقَطِعَ أُمْنِيَّتُهُ، وَأَنْ يَحْبَطَ عَمَلُهُ، فَإِنْ أَنْتَ وُلِّيتَ عَلَيْهِمْ أَمْرَهُمْ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَجِفَّ يَدُكَ مِنْ دِمَائِهِمْ وَأَنْ تَضْمُرَ بَطْنُكَ مِنْ أَمْوَالِهِمْ، وَأَنْ يَجِفَّ لِسَانُكَ عَنْ أَعْرَاضِهِمْ فَافْعَلْ، وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ»اغر ابومالک بیان کرتے ہیں: جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین بنانے کا ارادہ کیا تو انہیں بلا بھیجا، وہ حاضر ہوئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تمہیں ایک ایسے معاملے کی طرف بلا رہا ہوں جو اس کے ذمہ دار کے لیے مشقت کا باعث ہے، پس اے عمر! اللہ کی اطاعت کے ذریعے اس سے ڈرو، اور اس کے تقویٰ کے ذریعے اس کی اطاعت کرو، کیونکہ متقی امان اور حفاظت میں ہوتا ہے۔ پھر یہ معاملہ ایسی چیز ہے جس کا مستحق وہی ہوتا ہے جو اس پر عمل کرے۔ پس جو حق کا حکم دے اور باطل پر عمل کرے، اور نیکی کا حکم دے اور برائی پر عمل کرے، قریب ہے کہ اس کی امید منقطع ہو جائے اور اس کا عمل ضائع ہو جائے۔ پس اگر تم لوگوں کے معاملات کے والی بنو تو، اگر ہو سکے تو، اپنا ہاتھ ان کے خون سے، اپنا پیٹ ان کے مال سے، اور اپنی زبان ان کی عزتوں سے بچائے رکھو، ایسا کرو، اور اللہ کے سوا کوئی طاقت نہیں۔“