حدیث نمبر: 3679
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ يُوسُفَ السَّمْتِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ إِلَّا أَعْطَى مَا سَأَلُوهُ يَوْمَ عَذَّبَهُمُ الْمُشْرِكُونَ، إِلَّا خَبَّابُ بْنُ الْأَرَتِّ كَانُوا يُضْجِعُونَهُ عَلَى الرَّضْفِ فَلَمْ يَسْتَقِلُّوا مِنْهُ شَيْئًا، قَالَ: فَأَتَى بِكَفَنِهِ فَنَشَرَ عَلَيْهِ قَبَاطِيَّ بِيضًا فَبَكَى، فَقَالُوا: مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ فَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: «ذَكَرْتُ مُصْعَبَ بْنَ عُمَيْرٍ لَمْ يَتَعَجَّلُ شَيْئًا مِنْ طَيِّبَاتِهِ كُفِّنَ فِي بُرْدَةٍ، فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُكَفَّنْ فِيهِ، وَكَانَ إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ، وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ، حَتَّى جَعَلْنَا عَلَيْهِ مِنَ الْإِذْخِرِ وَمِنْ نَبَاتِ الْأَرْضِ»
ترجمہ

راوی بیان کرتے ہیں: …ان کا کفن لایا گیا اور اس پر سفید مصری کپڑا بچھایا گیا تو وہ رو پڑے، لوگوں نے کہا: اے ابوعبداللہ! آپ کو کس بات نے رلا دیا جبکہ آپ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”مجھے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ یاد آ گئے، انہوں نے اپنی کسی نعمت میں جلدی نہیں کی، انہیں ایک چادر میں کفنایا گیا، انہیں کفنانے کے لیے کچھ اور نہ ملا، اور جب ہم ان کا سر ڈھانپتے تو ان کے پاؤں کھل جاتے، اور جب ہم ان کے پاؤں ڈھانپتے تو ان کا سر کھل جاتا، یہاں تک کہ ہم نے ان پر اذخر گھاس اور زمین کی جڑی بوٹیاں رکھ دیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3679
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 77، حدیث 3694