المعجم الكبير للطبراني
باب الخاء— حرف خا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الشعبي، عن خباب باب: شعبی کی سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ يُوسُفَ السَّمْتِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ إِلَّا أَعْطَى مَا سَأَلُوهُ يَوْمَ عَذَّبَهُمُ الْمُشْرِكُونَ، إِلَّا خَبَّابُ بْنُ الْأَرَتِّ كَانُوا يُضْجِعُونَهُ عَلَى الرَّضْفِ فَلَمْ يَسْتَقِلُّوا مِنْهُ شَيْئًا، قَالَ: فَأَتَى بِكَفَنِهِ فَنَشَرَ عَلَيْهِ قَبَاطِيَّ بِيضًا فَبَكَى، فَقَالُوا: مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ فَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: «ذَكَرْتُ مُصْعَبَ بْنَ عُمَيْرٍ لَمْ يَتَعَجَّلُ شَيْئًا مِنْ طَيِّبَاتِهِ كُفِّنَ فِي بُرْدَةٍ، فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُكَفَّنْ فِيهِ، وَكَانَ إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ، وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ، حَتَّى جَعَلْنَا عَلَيْهِ مِنَ الْإِذْخِرِ وَمِنْ نَبَاتِ الْأَرْضِ»امام شعبی رحمہ اللہ سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں: کوئی شخص ایسا نہ تھا جس نے مشرکین کے ستائے جانے کے دن ان کا مطالبہ پورا نہ کیا ہو، سوائے سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کے، وہ انہیں گرم پتھروں پر لٹا دیتے مگر ان سے کچھ حاصل نہ کر پاتے۔ راوی کہتے ہیں: پھر ان کا کفن لایا گیا اور اس پر سفید مصری کپڑا بچھایا گیا تو وہ رو پڑے، لوگوں نے کہا: اے ابوعبداللہ! آپ کو کس بات نے رلا دیا جبکہ آپ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”مجھے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ یاد آ گئے، انہوں نے اپنی کسی نعمت میں جلدی نہیں کی، انہیں ایک چادر میں کفنایا گیا، انہیں کفنانے کے لیے کچھ اور نہ ملا، اور جب ہم ان کا سر ڈھانپتے تو ان کے پاؤں کھل جاتے، اور جب ہم ان کے پاؤں ڈھانپتے تو ان کا سر کھل جاتا، یہاں تک کہ ہم نے ان پر اذخر گھاس اور زمین کی جڑی بوٹیاں رکھ دیں۔“