المعجم الكبير للطبراني
باب الخاء— حرف خا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن خباب باب: اسماعیل بن ابی خالد کی قیس بن ابی حازم کے واسطے سے سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بِرِدَاءٍ لَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا تَدْعُو اللهَ أَلَا تَسْتَنْصِرُ؟ فَجَلَسَ مُحْمَرًّا وَجْهُهُ غَضْبَانًا، ثُمَّ قَالَ: «لَقَدْ كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ وَإِنَّ أَحَدَهُمْ لَتُحْفَرُ لَهُ الْحُفْرَةُ، ثُمَّ يُوضَعُ فِيهَا ثُمَّ يُوضَعُ الْمِنْشَارُ عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ يُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ عَظْمِهِ فَمَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ وَلَكِنَّكُمْ تَعْجَلُونَ، وَاللهِ لَيُتَمَّنَّ هَذَا الْأَمْرُ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ لَا يَخَافُ إِلَّا اللهَ وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ»راوی بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے جبکہ آپ ﷺ خانہ کعبہ کے سائے میں اپنی چادر پر سر رکھے لیٹے ہوئے تھے، تو ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ اللہ سے دعا نہیں فرمائیں گے؟ کیا آپ مدد طلب نہیں فرمائیں گے؟ راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ بیٹھ گئے، آپ ﷺ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا، پھر فرمایا: ”تم سے پہلے لوگوں میں ایسا ہوتا تھا کہ ان میں سے ایک کے لیے گڑھا کھودا جاتا، پھر اسے اس میں رکھا جاتا، پھر آری اس کے سر پر رکھی جاتی، پھر اسے لوہے کی کنگھیوں سے اس کی ہڈی سے نیچے کے حصے تک کھینچا جاتا، پھر بھی یہ اسے اس کے دین سے نہ ہٹاتا، لیکن تم جلدی مچا رہے ہو۔ اللہ کی قسم! یہ دین ضرور مکمل ہو کر رہے گا یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک سفر کرے گا اور اسے اللہ کے سوا اور اپنی بکریوں کے لیے بھیڑیے کے سوا کسی کا خوف نہیں ہوگا۔“