المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حيان بن بح الصدائي باب: سیدنا حیان بن بح صدائی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ بُحٍّ الصُّدَائِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَفَرَ قَوْمِي فَأُخْبِرْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَهَّزَ إِلَيْهِمْ جَيْشًا فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ قَوْمِي عَلَى الْإِسْلَامِ، قَالَ: «كَذَلِكَ؟» ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَتْبَعْتُهُ لَيْلَتِي إِلَى الصَّبَّاحِ فَأَذِنْتُ بِالصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَعْطَانِي إِنَاءً فَتَوَضَّأْتُ فِيهِ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فِي الْإِنَاءِ فَنَبَعَ عُيُونٌ فَقَالَ: «مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَلْيَتَوَضَّأْ» ، فَتَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ، وَأَمَرَنِي عَلَيْهِمْ وَأَعْطَانِي صَدَقَتَهُمْ
فَقَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا ظَلَمَنِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا خَيْرَ فِي الْإِمَارَةِ لِرَجُلٍ مُسْلِمٍ»
ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُ صَدَقَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الصَّدَقَةَ صُدَاعٌ وَحَرِيقٌ فِي الْبَطْنِ وَدَاءٌ» ، فَأَعْطَيْتُهُ صَحِيفَةَ إِمْرَتِي وَصَدَقَتِي، فَقَالَ: «مَا شَأْنُكَ؟» ، فَقُلْتُ: كَيْفَ أَقْبَلُهَا وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْكَ مَا سَمِعْتُ؟، فَقَالَ: «هُوَ مَا سَمِعْتَ»سیدنا حیان بن بح صدائی رضی اللہ عنہ، جو رسول اللہ ﷺ کے صحابی تھے، بیان کرتے ہیں: میری قوم کافر ہو گئی تو مجھے بتایا گیا کہ نبی کریم ﷺ نے ان کی طرف لشکر تیار کیا ہے، چنانچہ میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: میری قوم اسلام پر قائم ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا واقعی؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ راوی کہتے ہیں: میں رات بھر آپ ﷺ کے ساتھ رہا یہاں تک کہ صبح ہوئی تو میں نے نماز کی اذان دی، جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے مجھے ایک برتن دیا تو میں نے اس میں وضو کیا، پھر نبی کریم ﷺ نے اپنی انگلیاں اس برتن میں ڈالیں تو اس سے چشمے پھوٹ نکلے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو وضو کرنا چاہے کر لے۔“ چنانچہ میں نے وضو کیا اور نماز پڑھی، آپ ﷺ نے مجھے میری قوم پر امیر مقرر کیا اور ان کا صدقہ مجھے عطا کیا۔
پھر ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس کھڑا ہوا اور کہا: فلاں نے مجھ پر ظلم کیا ہے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان آدمی کے لیے امارت میں کوئی بھلائی نہیں۔“
پھر ایک شخص صدقہ مانگنے آیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”صدقہ طلب کرنا سر درد، پیٹ کی جلن اور ایک بیماری ہے۔“ چنانچہ میں نے اپنی امارت اور اپنے صدقے کی تحریر آپ ﷺ کو واپس کر دی۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا معاملہ ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں اسے کیسے قبول کروں جبکہ میں نے آپ سے وہ سن لیا ہے جو سنا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بات وہی ہے جو تم نے سنی۔“