المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حصين بن يزيد الكلبي، لم يخرج حصين بن أوس ويقال: ابن قيس النهشلي باب: سیدنا حصین بن یزید کلبی رضی اللہ عنہ، حصین بن اوس کی روایت شامل نہیں کی گئی، اور انہیں ابن قیس نہشلی بھی کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 3546
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَارُودِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ أَبُو سَهْلٍ الْبَصْرِيُّ ح، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْهَيْثَمِ خَلَفُ بْنُ الْهَيْثَمِ النَّهْشَلِيُّ الْقَصَّارُ، حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الْأَغَرِّ النَّهْشَلِيُّ، ثنا عَمِّي زِيَادُ بْنُ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ حُصَيْنِ بْنِ قَيْسٍ أَنَّهُ حَمَلَ طَعَامًا إِلَى الْمَدِينَةِ فَلَقِيَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَاذَا تَحْمِلُ يَا أَعْرَابِيُّ؟» ، قَالَ: قَمْحًا، قَالَ: «مَا أَرَدْتَ بِهِ، أَوْ مَا تُرِيدُ بِهِ؟» ، قَالَ: أَرَدْتُ بَيْعَهُ فَمَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ: «أَحْسِنُوا مُبَايَعَةَ الْأَعْرَابِيِّ»ترجمہ
سیدنا حصین بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ خوراک لے کر مدینہ آئے تو رسول اللہ ﷺ سے ملاقات ہوئی، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے بدوی! کیا لے کر آئے ہو؟“ عرض کیا: گندم۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اسے کس ارادے سے لائے ہو؟“ عرض کیا: میں اسے بیچنا چاہتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: ”بدوی کے ساتھ اچھی خرید و فروخت کرو۔“