المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حصين الحماني وهو حصين بن مشمت بن شداد بن النمر بن مرة بن حبان باب: سیدنا حصین حمانی رضی اللہ عنہ، اور وہ حصین بن مشمت بن شداد بن نمر بن مرہ بن حبان ہیں
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ح وَثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ، قَالَا: ثنا مُحْرِزُ بْنُ وِزْرِ بْنِ عِمْرَانَ بْنِ شُعَيْثِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ حُصَيْنِ بْنِ مُشْمِتِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ النَّمِرِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ حِبَّانَ، حَدَّثَنِي وِزْرُ، أَنَّ أَبَاهُ عِمْرَانَ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ شُعَيْثًا، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ عَاصِمًا حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَصِينًا حَدَّثَهُ، أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَايَعَهُ بَيْعَةَ الْإِسْلَامِ وَصَدَقَ إِلَيْهِ صَدَقَةَ مَالِهِ، وأَقْطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيَاهَ عَدَّةَ بِالْمَرُوثِ وَإِسْنَادَ جَرَادٍ مِنْهَا أُصَيْهِبٌ وَمِنْهَا الْمَاغِرَةُ وَمِنْهَا أَهْوَاءُ وَمِنْهَا الثِّمَادُ وَمِنْهَا السَّدِيرَةُ وَشَرَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حُصَيْنِ بْنِ مُشْمِتٍ مِمَّا قَطَعَ أَنْ لَا يُقْعَرَ مَرْعَاهُ وَلَا يُبَاعُ مَاؤُهُ وَشَرَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حُصَيْنِ بْنِ مُشْمِتٍ أَنْ «لَا يَبِيعَ مَاءَهُ، وَلَا يَمْنَعَ فَضْلَهُ» ، فَقَالَ زُهَيْرُ بْنُ عَاصِمِ بْنِ حُصَيْنٍ شَعَرًا:
[البحر الرجز]
إِنَّ بِلَادِي لَمْ تَكُنْ أَمْلَاسَا ... بِهِنَّ خَطَّ الْقَلَمُ الْأَنْقَاسَا
مِنَ النَّبِيِّ حَيْثُ أَعْطَى النَّاسَا ... فَلَمْ يَدَعْ لَبْسًا وَلَا الْتِبَاسَا "سیدنا حصین بن مشمت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس وفد بن کر آئے، تو آپ ﷺ سے اسلام کی بیعت کی اور اپنے مال کا صدقہ ادا کیا، اور نبی کریم ﷺ نے انہیں مروث کے کئی چشمے عطا کیے اور ان سے متصل زمین، جن میں سے اصیہب، ماغرہ، اہواء، ثماد اور سدیرہ شامل تھے۔ اور نبی کریم ﷺ نے حصین بن مشمت پر یہ شرط رکھی کہ جو زمین انہیں عطا کی گئی اس کی چراگاہ کو ختم نہ کیا جائے اور اس کا پانی فروخت نہ کیا جائے، اور نبی کریم ﷺ نے حصین بن مشمت پر یہ شرط رکھی کہ ”وہ اپنا پانی نہ بیچے اور اس کی زیادتی کو نہ روکے۔“ اس پر زہیر بن عاصم بن حصین نے یہ اشعار کہے: ”بے شک میری سرزمین ہموار میدان نہ تھی، جس پر قلم نے اپنی سیاہی سے خط کھینچے، نبی کریم ﷺ کی طرف سے، جب انہوں نے لوگوں کو عطا کیا، تو کوئی ابہام اور اشتباہ باقی نہ چھوڑا۔“