حدیث نمبر: 3398
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ قَالَ لِقَوْمِهِ: «اجْتَمِعُوا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» . فَلَمَّا جَمَعَهُمْ قَالَ: هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ؟ قَالُوا: لَا إِلَّا ابْنَ أُخْتٍ لَنَا. قَالَ: ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ. «فَدَعَا بِجَفْنَةٍ فِيهَا مَاءٌ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ، ثُمَّ صَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ، فَكَبَّرَ فِيهَا اثْنَتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً، يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، وَقَرَأَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَيُسْمِعُ مَنْ يَلِيهِ»
ترجمہ

سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم سے کہا: ”جمع ہو جاؤ، میں تمہیں نبی کریم ﷺ کی نماز پڑھا دوں۔“ جب انہوں نے سب کو جمع کر لیا تو انہوں نے پوچھا: کیا تم میں کوئی غیر قوم کا فرد بھی ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، سوائے ہمارے ایک بھانجے کے۔ انہوں نے کہا: قوم کا بھانجا بھی انہی میں سے ہوتا ہے۔ ”پھر انہوں نے پانی سے بھرا ایک لگن منگوایا، اپنے ہاتھ دھوئے، کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، اپنا چہرہ تین بار دھویا، اپنے دونوں بازو تین بار دھوئے، اپنے سر کا مسح کیا، اپنے دونوں پاؤں دھوئے، پھر انہیں ظہر کی نماز پڑھائی، اس میں بائیس تکبیریں کہیں، سجدے میں جاتے وقت اور سجدے سے سر اٹھاتے وقت تکبیر کہتے تھے، اور پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ پڑھی، اور اپنے قریب کھڑے شخص کو سنایا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3398
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 280، حدیث 3411