المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الحارث بن حاطب الجمحي " وهو الحارث بن حاطب بن الحارث بن معمر بن حبيب بن وهب بن حذافة بن جمح، وأمه فاطمة بنت المجلل بن عبد الله بن أبي قيس بن عبد ود بن نضر بن مالك بن حسل، هاجرت به إلى أرض الحبشة مع زوجها حاطب بن الحارث " باب: سیدنا حارث بن حاطب جمحی رضی اللہ عنہ، اور وہ حارث بن حاطب بن حارث بن معمر بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن جمح ہیں، ان کی والدہ فاطمہ بنت مجلل بن عبداللہ بن ابی قیس بن عبدود بن نضر بن مالک بن حسل تھیں، وہ انہیں لے کر اپنے شوہر حاطب بن حارث کے ساتھ حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کر گئیں
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ الْعِجْلِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْوَاسِطِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَذُوعِيُّ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَاطِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِي بِلِصٍّ، فَقَالَ: «اقْتُلُوهُ» . فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا سَرَقَ. قَالَ: «اقْتُلُوهُ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا سَرَقَ. قَالَ: «اقْطَعُوا يَدَهُ» . ثُمَّ سَرَقَ فَقُطِعَتْ رِجْلُهُ، ثُمَّ سَرَقَ عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى قُطِعَتْ قَوَائِمُهُ كُلُّهَا، ثُمَّ سَرَقَ الْخَامِسَةَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمَ بِهَذَا حِينَ قَالَ: «اقْتُلُوهُ»سیدنا حارث بن حاطب جمحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے تو صرف چوری کی ہے۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“ لوگوں نے پھر عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے تو صرف چوری کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا ہاتھ کاٹ دو۔“ پھر اس نے دوبارہ چوری کی تو اس کا پاؤں کاٹا گیا، پھر اس نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں چوری کی یہاں تک کہ اس کے سارے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے، پھر اس نے پانچویں بار چوری کی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا ”اسے قتل کر دو“ تو آپ ﷺ اس شخص کے انجام کو ہم سے زیادہ جانتے تھے۔