المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الحارث بن عمرو السهمي باب: سیدنا حارث بن عمرو سہمی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ح وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَأَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالُوا: ثنا يَحْيَى بْنُ زُرَارَةَ بْنِ كَرِيمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّهِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ، قَالَ: قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ اسْتَغْفِرْ لِي فَقَالَ: «غَفَرَ اللهُ لَكُمْ» . ثُمَّ اسْتَدَرْتُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ رَجَاءَ أَنْ يَخُصَّنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ اسْتَغْفِرْ لِي، فَقَالَ: «غَفَرَ اللهُ لَكُمْ»
فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ الْفَرَائِعُ وَالْعَتَائِرُ؟ قَالَ: «مَنْ شَاءَ فَرَّعَ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يُفَرِّعْ، وَمَنْ شَاءَ عَتَرَ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَعْتِرْ، وَفِي الْغَنَمِ أُضْحِيَّتُهَا» . ثُمَّ قَالَ: «أَلَا إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا»سیدنا حارث بن عمرو سہمی رضی اللہ عنہ کے پوتے ان سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ سے ملے، آپ ﷺ اپنی اونٹنی عضباء پر سوار تھے، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، یا رسول اللہ! میرے لیے مغفرت مانگیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تمہیں بخش دے۔“ پھر میں دوسری طرف سے گھوما، اس امید سے کہ آپ ﷺ خاص طور پر میرے لیے دعا کریں، اور میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے لیے مغفرت مانگیں، تو آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”اللہ تمہیں بخش دے۔“
اس پر ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرائع اور عتائر کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو چاہے فرع کرے اور جو چاہے نہ کرے، اور جو چاہے عتیرہ کرے اور جو چاہے نہ کرے، اور بکریوں میں ان کی قربانی ہے۔“ پھر فرمایا: ”سن لو! تمہارا خون اور تمہارا مال آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہے جیسے تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینے میں حرام ہے۔“