المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الحارث بن حسان البكري باب: سیدنا حارث بن حسان بکری رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 3315
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَسَّانَ الْبَكْرِيِّ، قَالَ: " قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَبِلَالٌ قَائِمٌ بَيْنَ يَدَيْهِ مُتَقَلِّدٌ السَّيْفَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَايَاتٌ سُودٌ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الرَّايَاتُ؟ قَالُوا: عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ "ترجمہ
سیدنا حارث بن حسان بکری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”ہم مدینہ آئے تو رسول اللہ ﷺ منبر پر تھے، بلال رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے سامنے تلوار لٹکائے کھڑے تھے، اور اچانک کالے جھنڈے نظر آئے، میں نے پوچھا: یہ جھنڈے کیسے ہیں؟ لوگوں نے بتایا: عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ایک غزوے سے واپس آئے ہیں۔“