المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الحارث بن حسان البكري باب: سیدنا حارث بن حسان بکری رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 3311
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ الْأَزْهَرِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: تَزَوَّجَ الْحَارِثُ بْنُ حَسَّانَ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - وَكَانَ الرَّجُلُ إِذْ ذَاكَ إِذَا تَزَوَّجَ تَخَدَّرَ أَيَّامًا، فَلَا يَخْرُجُ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَقِيلَ لَهُ: أتَخْرُجُ وَإِنَّمَا بَنَيْتَ بِأَهْلِكَ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؟ قَالَ: «وَاللهِ إِنَّ امْرَأَةً تَمْنَعُنِي مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ فِي جَمِيعٍ لَامْرَأَةُ سَوْءٍ»ترجمہ
سماک بن حرب رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا حارث بن حسان رضی اللہ عنہ نے — جنہیں صحبتِ رسول حاصل تھی — شادی کی، اور اس زمانے میں دستور تھا کہ جب کوئی شخص شادی کرتا تو چند دن اپنی بیوی کے ساتھ پردے میں رہتا اور صبح کی نماز کے لیے نہ نکلتا، (لیکن وہ صبح کی نماز کے لیے نکلے) تو ان سے کہا گیا: کیا آپ نکل رہے ہیں جبکہ آج ہی رات آپ نے اپنی بیوی سے شبِ زفاف منائی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! جو عورت مجھے جماعت کے ساتھ صبح کی نماز سے روک دے وہ بری عورت ہے۔“