المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الحكم بن عمرو الغفاري " كان ينزل البصرة، وهو الحكم بن عمرو بن مجدع بن حذيم بن الحارث بن ثعلبة بن مليل بن ضمرة بن بكر بن مناة بن كنانة " باب: سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ، بصرہ میں رہتے تھے، اور وہ حکم بن عمرو بن مجدع بن حذیم بن حارث بن ثعلبہ بن ملیل بن ضمرہ بن بکر بن مناۃ بن کنانہ ہیں
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ التَّيْمِيِّ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: صَلَّى الْحَكَمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ بِالنَّاسَ فِي سَفَرٍ وَبَيْنَ يَدَيْهِ سُتْرَةٌ، فَمَرَّتْ حَمِيرٌ بَيْنَ يَدَيْ أَصْحَابِهِ، فَأَعَادَ بِهِمُ الصَّلَاةَ، فَقَالُوا: أَرَادَ أَنْ يَصْنَعَ كَمَا صَنَعَ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ إِذْ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ الْغَدَاةَ أَرْبَعًا، ثُمَّ قَالَ: أَزِيدُكُمْ؟ فَلَحِقْتُ بِالْحُكْمِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَوَقَفَ حَتَّى تَلَاحَقَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: «إِنِّي أَعَدْتُ بِكُمُ الصَّلَاةَ مِنْ أَجْلِ الْحَمِيرِ الَّتِي مَرَّتْ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ، فَضَرَبْتُمُونِي مَثَلًا لِابْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، وَإِنِّي أَسْأَلُ اللهَ أَنْ يُحْسِنَ سِيرَتَكُمْ، وَيُحْسِنَ بَلَاغَكُمْ، وَأَنْ يَنْصُرَكُمْ عَلَى عَدُوِّكُمْ، وَأَنْ يُفَرِّقَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ» . فَمَضُوا فَلَمْ يَرَوْا فِي وَجْهِهِمْ ذَلِكَ إِلَّا مَا يُسَرُّونَ بِهِ، فَلَمَّا أَنْ فَرَغُوا مَاتَعبداللہ بن صامت رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ نے ایک سفر میں لوگوں کو نماز پڑھائی اور ان کے سامنے سترہ تھا، پھر ان کے مقتدیوں کے آگے سے گدھے گزر گئے تو انہوں نے انہیں نماز دوبارہ پڑھائی۔ اس پر لوگوں نے کہا: یہ وہی کرنا چاہتے تھے جو ولید بن عقبہ نے کیا تھا جب اس نے اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز چار رکعت پڑھائی، پھر کہا: کیا مزید پڑھاؤں؟ تو میں سیدنا حکم رضی اللہ عنہ کے پاس جا پہنچا اور ان سے یہ بات ذکر کی، وہ رک گئے یہاں تک کہ لوگ ان کے پاس آ پہنچے، پھر فرمایا: ”میں نے تمہیں نماز دوبارہ اس لیے پڑھائی کہ تمہارے سامنے سے گدھے گزر گئے تھے، اور تم نے مجھے ابن ابی معیط سے مثال دے ڈالی، اور میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہارا چال چلن اچھا کرے، تمہیں (منزل تک) بخیر پہنچائے، تمہیں تمہارے دشمن پر مدد دے، اور میرے اور تمہارے درمیان جدائی ڈال دے۔“ پھر وہ لوگ چل پڑے تو اپنے اس سفر میں انہوں نے وہی کچھ دیکھا جس سے وہ خوش ہوئے، اور جب وہ (سفر سے) فارغ ہوئے تو حکم رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے۔