المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حكيم بن حزام بن خويلد بن أسد بن عبد العزى بن قصي بن كلاب، يكنى أبا خالد " وأمه صفية بنت زهير بن الحارث بن أسد، وأمها سلمى بنت عبد مناف بن عبد الدار، وإسلامه يوم الفتح، وكان من المؤلفة، أعطاه النبي صلى الله عليه وسلم مائة بعير من غنائم حنين " باب: سیدنا حکیم بن حزام بن خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی بن کلاب رضی اللہ عنہ، کنیت ابوخالد، ان کی والدہ صفیہ بنت زہیر بن حارث بن اسد تھیں، اور ان کی نانی سلمیٰ بنت عبدمناف بن عبدالدار تھیں، انہوں نے فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا، وہ مؤلفۃ القلوب میں سے تھے، نبی کریم ﷺ نے انہیں غزوہ حنین کے مالِ غنیمت میں سے سو اونٹ عطا فرمائے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: مَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ أَحَدٌ سَمِعْنَا بِهِ كَانَ أَكْثَرَ حَمْلًا فِي سَبِيلِ اللهِ مِنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ. قَالَ: لَقَدْ قَدِمَ أَعْرَابِيَّانِ الْمَدِينَةَ يَسْأَلَانِ عَمَّنْ يَحْمِلُ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَدُلَّا عَلَى حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، فَأَتَيَاهُ فِي أَهْلِهِ، فَسَأَلَهُمَا مَا يُرِيدَانِ، فَأَخْبَرَاهُ، فَقَالَ لَهُمَا: «لَا تَعْجَلَا حَتَّى أَخْرُجَ إِلَيْكُمَا» . قَالَ: وَكَانَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ يَلْبَسُ ثِيَابًا يُؤْتَى بِهَا مِنْ مِصْرَ كَأَنَّهَا الشِّبَاكُ ثَمَنُ أَرْبَعَةِ دَرَاهِمَ، وَيَأْخُذُ عَصًا فِي يَدِهِ، وَيُخْرِجُ مَعَهُ غُلَامًا لَهُ، وَكُلَّمَا مَرَّ بِكِبًا أَوْ قُمَامَةٍ فَرَأَى فِيهِ خِرْقَةً تَصْلُحُ فِي جِهَازِ الْإِبِلِ الَّتِي يَحْمِلُ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللهِ أَخَذَهَا بِطَرَفِ عَصَاهُ فَنَفَضَهَا، ثُمَّ قَالَ لِغُلَامَيْهِ: «أَمْسِكا تَسْتَعِينَانِ بِهَا فِي جِهَازِكُمَا» . فَقَالَ الْأَعْرابِيَّانِ وَهُوَ يَصْنَعُ ذَلِكَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: وَيْحَكَ انْجُ بِنَا، فَوَاللهِ مَا عِنْدَ هَذَا إِلَّا لَقْطُ الْقَشْعِ. وَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: وَيْحَكَ لَا تَعْجَلْ حَتَّى نَنْظُرَ. فَخَرَجَ بِهِمَا حَتَّى جَاءَ بِهِمَا إِلَى السُّوقِ، فَنَظَرَ إِلَى نَاقَتَيْنِ جَلِيلَتَيْنِ سَمِينَتَيْنِ خَلِفَتَيْنِ، وَابْتَاعَهُمَا وَابْتَاعَ جِهَازَهُمَا، ثُمَّ قَالَ لِغُلَامَيْهِ: «رُمَّا بِهَذِهِ الْخِرَقِ مَا يَنْبَغِي لَهُ الْمَرَمَّةُ مِنْ جِهَازِهِمَا. ثُمَّ أَوْقَرَهُمَا طَعَامًا وَبُرًّا وَوَدَكًا وَأَعْطَاهُمَا نَفَقَةً، ثُمَّ أَعْطَاهُمَا النَّاقَتَيْنِ» . قَالَ: يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: وَاللهِ مَا رَأَيْتُ مِنْ لَاقِطِ قَشْعٍ خَيْرٍ مِنَ الْيَوْمِ…حکیم بن حزام کے متعلق ہے۔ راوی کہتے ہیں: دو بدو مدینہ آئے، وہ پوچھ رہے تھے کہ کون اللہ کی راہ میں سواری کا بوجھ اٹھانے میں مدد کرتا ہے، تو انہیں حکیم بن حزام کی طرف رہنمائی کی گئی۔ وہ ان کے گھر آئے، حکیم نے پوچھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں، تو انہوں نے بتایا۔ حکیم نے کہا: جلدی نہ کرو، میں تمہارے پاس تھوڑی دیر میں نکل کر آتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: حکیم بن حزام ایسے کپڑے پہنتے تھے جو مصر سے لائے جاتے تھے، جالی جیسے باریک، جن کی قیمت چار درہم تھی، اور اپنے ہاتھ میں چھڑی پکڑتے، اور اپنے ساتھ اپنے ایک غلام کو نکالتے، اور جب بھی کوڑے کے ڈھیر یا کچرے کے پاس سے گزرتے اور اس میں کوئی چیتھڑا دیکھتے جو اللہ کی راہ میں بوجھ اٹھانے والے اونٹوں کے سازو سامان میں کام آ سکے تو اسے اپنی چھڑی کے سرے سے اٹھا کر جھاڑتے، پھر اپنے غلاموں سے کہتے: ”اسے سنبھال لو، تمہارے سامان میں کام آئے گا۔“ اس دوران بدو ایک دوسرے سے کہنے لگے، ایک نے دوسرے سے کہا: افسوس! چلو یہاں سے نکل چلیں، اللہ کی قسم! اس شخص کے پاس تو صرف چیتھڑے چننے کا ہی کام ہے۔ اس کے ساتھی نے کہا: افسوس! جلدی نہ کرو، دیکھتے ہیں۔ چنانچہ وہ انہیں لے کر بازار پہنچے، تو دو موٹی تازی، بھاری بھرکم، حاملہ اونٹنیاں دیکھیں، انہیں خرید لیا اور ان کا سازو سامان بھی خریدا، پھر اپنے غلاموں سے کہا: ”ان چیتھڑوں سے ان کے سازو سامان کی جو مرمت درکار ہو وہ کر دو۔“ پھر انہیں کھانا، گندم اور گھی لاد دیا اور انہیں خرچ کے لیے رقم بھی دی، پھر انہیں دونوں اونٹنیاں دے دیں۔ راوی کہتے ہیں: ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آج سے بہتر نتیجہ کسی چیتھڑے چننے والے سے کبھی نہیں دیکھا۔