المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حكيم بن حزام بن خويلد بن أسد بن عبد العزى بن قصي بن كلاب، يكنى أبا خالد " وأمه صفية بنت زهير بن الحارث بن أسد، وأمها سلمى بنت عبد مناف بن عبد الدار، وإسلامه يوم الفتح، وكان من المؤلفة، أعطاه النبي صلى الله عليه وسلم مائة بعير من غنائم حنين " باب: سیدنا حکیم بن حزام بن خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی بن کلاب رضی اللہ عنہ، کنیت ابوخالد، ان کی والدہ صفیہ بنت زہیر بن حارث بن اسد تھیں، اور ان کی نانی سلمیٰ بنت عبدمناف بن عبدالدار تھیں، انہوں نے فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا، وہ مؤلفۃ القلوب میں سے تھے، نبی کریم ﷺ نے انہیں غزوہ حنین کے مالِ غنیمت میں سے سو اونٹ عطا فرمائے
حدیث نمبر: 3059
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا أَبُو يَزِيدَ بْنُ أَبِي الْغِمْرِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: بَاعَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ دَارًا لَهُ بِمَكَّةَ مِنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: بِمِائَةِ أَلْفٍ، فَقِيلَ لَهُ: أَبِعْتَ دَارِكَ مِنْهُ بِمِائَةِ أَلْفٍ؟ قَالَ: «وَاللهِ إِنْ أَخَذْتُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِلَّا بَزِقٍّ مِنْ خَمْرٍ، وَاشْهَدُوا أَنَّ ثَمَنَهَا فِي سَبِيلِ اللهِ»ترجمہ
عروہ بیان کرتے ہیں: حکیم بن حزام نے مکہ میں اپنا گھر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ بیچا — میرے علم کے مطابق یہ ایک لاکھ درہم میں تھا — تو ان سے پوچھا گیا: کیا آپ نے اپنا گھر ایک لاکھ میں بیچ دیا؟ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں نے یہ گھر زمانہ جاہلیت میں محض ایک مشکیزہ شراب کے بدلے حاصل کیا تھا، تم گواہ رہو کہ اس کی قیمت اللہ کی راہ میں خرچ کی جائے گی۔“