حدیث نمبر: 3026
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَدْخُلُ الْمَلَكُ عَلَى النُّطْفَةِ بَعْدَمَا تَسْتَقِرُّ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ أَوْ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ؟ فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَكْتُبانِ، أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟ فَيَقُولُ اللهُ وَيَكْتُبَانِ مُصِيبَتَهُ وَأَثَرَهُ وَرِزْقَهُ وَأَجَلَهُ، ثُمَّ تُطْوَى الصَّحِيفَةُ، فَلَا يُزَادُ فِيهَا أَوْ يُنْقَصُ مِنْهَا "
ترجمہ

سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”فرشتہ نطفے کے رحم میں قرار پکڑنے کے چالیس یا پینتالیس راتوں بعد اس کے پاس آتا ہے، اور کہتا ہے: اے رب! یہ بدبخت ہے یا خوش نصیب؟ تو اللہ عزوجل بتاتا ہے اور دونوں لکھتے ہیں۔ نر ہے یا مادہ؟ تو اللہ بتاتا ہے اور دونوں لکھتے ہیں، اور اس کی مصیبت، اس کا اثر، اس کا رزق اور اس کی موت لکھتے ہیں، پھر صحیفہ لپیٹ دیا جاتا ہے، نہ اس میں کچھ بڑھایا جاتا ہے اور نہ گھٹایا جاتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3026
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 176، حدیث 3039