المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو الطفيل عامر بن واثلة عن حذيفة بن أسيد باب: ابوطفیل عامر بن واثلہ کی سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا، الْقَعْنَبِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: إِنَّ الشَّقِيَّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ، وَإِنَّ السَّعِيدَ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ. فَأَتَيْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ أَسِيدٍ، فَقُلْتُ: أَلَا تَعْجَبُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ؟ قَالَ: وَمَا قَالَ؟ قَالَ: إِنَّ الشَّقِيَّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ، وَإِنَّ السَّعِيدَ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ. قَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا مَضَتْ عَلَى النُّطْفَةِ خَمْسٌ وَأَرْبَعُونَ لَيْلَةً، قَالَ الْمَلَكُ: أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟ فَيَقْضِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ، فَيَقُولُ الْمَلَكُ: أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ؟ فَيَقْضِي اللهُ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ. قَالَ: فَيَقُولُ: رِزْقُهُ وَأَجَلُهُ وَعَمَلُهُ؟ قَالَ: فَيَقْضِي اللهُ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ. قَالَ: ثُمَّ تُطْوَى الصَّحِيفَةُ، فَلَا يُزَادُ فِيهَا، وَلَا يُنْقَصُ مِنْهَا "ابوالطفیل عامر بن واثلہ بیان کرتے ہیں: میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: بدبخت وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں بدبخت لکھا گیا، اور خوش نصیب وہ ہے جو دوسروں کے حال سے نصیحت پائے۔ چنانچہ میں حذیفہ بن اسید کے پاس گیا اور کہا: کیا آپ کو ابن مسعود کی بات پر تعجب نہیں؟ انہوں نے پوچھا: انہوں نے کیا کہا؟ میں نے کہا: بدبخت وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں بدبخت لکھا گیا، اور خوش نصیب وہ ہے جو دوسروں کے حال سے نصیحت پائے۔ حذیفہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جب نطفے پر پینتالیس راتیں گزر جاتی ہیں تو فرشتہ کہتا ہے: نر ہے یا مادہ؟ تو اللہ عزوجل فیصلہ فرماتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے، پھر فرشتہ کہتا ہے: بدبخت ہے یا خوش نصیب؟ تو اللہ فیصلہ فرماتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے۔“ کہتے ہیں: پھر وہ کہتا ہے: اس کا رزق، اس کی موت اور اس کا عمل؟ کہتے ہیں: تو اللہ فیصلہ فرماتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے۔ کہتے ہیں: پھر صحیفہ لپیٹ دیا جاتا ہے، نہ اس میں کچھ بڑھایا جاتا ہے اور نہ اس میں سے کچھ گھٹایا جاتا ہے۔