حدیث نمبر: 3023
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَزَّازُ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْكَرْمَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ، وَالسَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ. فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ أَتَعَجَّبُ مِمَّا سَمِعْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى أَبِي سَرِيحَةَ حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ الْغِفَارِيِّ، فَتَعَجَّبْتُ، فَقَالَ: مِمَّ تَعَجَّبْتَ؟ فَقُلْتُ: سَمِعْتُ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَزْعُمُ أَنَّ الشَّقِيَّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ، وَأَنَّ السَّعِيدَ مَنْ وُعِظَ لِغَيْرِهِ. فَقَالَ: مِنْ أَيِّ ذَلِكَ عَجِبْتَ؟ قُلْتُ: أَيَشْقَى أَحَدٌ بِغَيْرِ عَمَلٍ؟ فَأَهْوَى بِيَدَيِهِ إِلَى أُذُنَيْهِ، وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ وَهُوَ يَقُولُ: " تَقَعُ النُّطْفَةُ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ يَتَصَوَّرُ عَلَيْهَا الْمَلَكُ - حَسِبْتُهُ قَالَ: الَّذِي يَخْلُقَهَا - فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟ فَيَجْعَلُهَا ذَكَرًا أَوْ أُنْثَى، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَسَوِيٌّ أَمْ غَيْرُ سَوِيٍّ؟ فَيَجْعَلُهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ سَوِيًّا أَوْ غَيْرَ سَوِيٍّ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ مَا أَجَلُهُ؟ مَا خَلْقُهُ؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ؟ فَيَجْعَلُهُ اللهُ تَعَالَى شَقِيًّا أَوْ سَعِيدًا "
ترجمہ

ابوالطفیل بیان کرتے ہیں: میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: بدبخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ ہی میں بدبخت لکھا جا چکا ہو، اور خوش نصیب وہ ہے جو دوسروں کے حال سے نصیحت حاصل کرے۔ میں ان کے پاس سے، جو کچھ سنا اس پر تعجب کرتا ہوا نکلا، یہاں تک کہ ابوسریحہ حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اور تعجب کا اظہار کیا۔ انہوں نے پوچھا: کس چیز پر تعجب ہے؟ میں نے کہا: میں نے آپ کے بھائی ابن مسعود کو یہ کہتے سنا کہ بدبخت وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں بدبخت لکھا گیا ہو، اور خوش نصیب وہ ہے جو دوسروں کے حال سے نصیحت پائے۔ انہوں نے پوچھا: تمہیں کس بات پر تعجب ہوا؟ میں نے کہا: کیا بغیر عمل کے کوئی بدبخت ہو سکتا ہے؟ تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں کی طرف بڑھائے اور کہا: میں نے اپنے انہی دونوں کانوں سے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”نطفہ رحم میں چالیس راتیں پڑا رہتا ہے، پھر فرشتہ اس کی تصویر بناتا ہے — راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا: وہی فرشتہ جو اسے تخلیق کرتا ہے — پھر وہ کہتا ہے: اے رب! یہ نر ہے یا مادہ؟ تو اللہ اسے نر یا مادہ بنا دیتا ہے، پھر وہ کہتا ہے: اے رب! یہ سالم ہے یا ناقص؟ تو اللہ عزوجل اسے سالم یا ناقص بنا دیتا ہے، پھر وہ کہتا ہے: اے رب! اس کی موت کب اور کیسی ہوگی؟ اس کی تخلیق کیسی ہوگی؟ پھر کہتا ہے: اے رب! یہ بدبخت ہے یا خوش نصیب؟ تو اللہ تعالیٰ اسے بدبخت یا خوش نصیب بنا دیتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3023
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 174، حدیث 3036