المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
تسمية أصحاب العقبة باب: اصحابِ عقبہ کے نام
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ووَدِيعَةَ بْنِ ثَابِتٍ كَلَامٌ، فَقَالَ وَدِيعَةُ لِعَمَّارٍ: إِنَّمَا أَنْتَ عَبْدُ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، مَا أَعْتَقَكَ بَعْدُ. قَالَ عَمَّارٌ: «كَمْ كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ؟» فَقَالَ: اللهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «أَخْبِرْنِي عَنْ عِلْمِكَ» . فَسَكَتَ وَدِيعَةُ، فَقَالَ مَنْ حَضَرَهُ: أَخْبِرْهُ عَمَّا سَأَلَكَ، وَإِنَّمَا أَرَادَ عَمَّارٌ أَنْ يُخْبِرَهُ أَنَّهُ كَانَ فِيهِمْ، فَقَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ رَجُلًا. فَقَالَ عَمَّارٌ: «فَإِنْ كُنْتَ فِيهِمْ فَإِنَّهُمْ خَمْسَةَ عَشَرَ» . فَقَالَ وَدِيعَةُ: مَهْلًا يَا أَبَا الْيَقْظَانِ أَنْشُدُكَ اللهَ أَنْ تَفْضَحَنِي. فَقَالَ عَمَّارٌ: «وَاللهِ مَا سَمَّيْتُ أَحَدًا وَلَا أُسَمِّيهِ أَبَدًا، وَلَكِنِّي أَشْهَدُ أَنَّ الْخَمْسَةَ عَشَرَ رَجُلًا اثْنَا عَشَرَ مِنْهُمْ حَرْبٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ»راوی اپنے والد سے بیان کرتے ہیں: عمار بن یاسر اور ودیعہ بن ثابت کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہوئی، تو ودیعہ نے عمار سے کہا: تم تو صرف ابوحذیفہ بن مغیرہ کے غلام ہو، اس نے ابھی تک تمہیں آزاد نہیں کیا۔ عمار نے پوچھا: عقبہ والے کتنے تھے؟ اس نے کہا: اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ عمار نے کہا: مجھے اپنے علم کے مطابق بتاؤ۔ ودیعہ خاموش ہو گیا، تو وہاں موجود لوگوں نے کہا: جو انہوں نے تم سے پوچھا اس کا جواب دو — دراصل عمار کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ ودیعہ خود بھی انہی میں شامل تھا۔ چنانچہ ودیعہ نے کہا: ہم بات کیا کرتے تھے کہ وہ چودہ آدمی تھے۔ عمار نے کہا: اگر تم بھی ان میں شامل تھے تو وہ پندرہ ہیں۔ ودیعہ نے کہا: ٹھہرو، اے ابویقظان! تمہیں اللہ کا واسطہ، مجھے رسوا نہ کرو۔ عمار نے کہا: اللہ کی قسم! نہ میں نے کسی کا نام لیا ہے اور نہ کبھی لوں گا، لیکن میں گواہی دیتا ہوں کہ ان پندرہ آدمیوں میں سے بارہ ایسے ہیں جو دنیا کی زندگی میں اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے، اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے والے ہیں۔