المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
محمد بن حمزة بن عمرو الأسلمي عن أبيه باب: محمد بن حمزہ بن عمرو اسلمی کی اپنے والد سیدنا حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الصَّائِغُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ حَمْزَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ حَمْزَةَ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي سُفْيَانُ بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كَانَ طَعَامُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدُورُ عَلَى يَدَيْ أَصْحَابِهِ هَذَا لَيْلَةً وَهَذَا لَيْلَةً. قَالَ: فَدَارَ عَلَيَّ لَيْلَةً، فَصَنَعْتُ طَعَامَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرَكْتُ النِّحْيَ وَلَمْ أُوكِهِ، وَذَهَبَتُ بِالطَّعَامِ إِلَيْهِ، فَتَحَرَّكَ فَأُهْرِيقَ مَا فِيهِ، فَقُلْتُ: أَعْلَى يَدِي أُهْرِيقَ طَعَامُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَدْنِهِ» . فَقُلْتُ: لَا أَسْتَطِيعُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَرَجَعْتُ مَكَانِي، فَإِذَا النِّحْيُ يَقُولُ: قَبْ قَبْ، فَقُلْتُ: مَهْ، قَدْ أُهْرِيقَتْ فَضْلَةٌ فَضَلَتْ فِيهِ، فَجِئْتُ أَنْظُرُ فِيهِ فَوَجَدْتُهُ قَدْ مُلِئَ إِلَى ثَدْيَيْهِ، فَاجْتَذَبْتُهُ، وَجِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: «أَلَا إِنَّكَ لَوْ تَرَكْتَهُ لَمُلِئَ إِلَى فِيهِ ثُمَّ أُوكِئَ»راوی بیان کرتے ہیں: میں کھانا لے کر ان کی طرف گیا تو وہ برتن ہل گیا اور جو کچھ اس میں تھا بہہ گیا۔ میں نے کہا: کیا میرے ہاتھ میں ہوتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کا کھانا گر گیا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے قریب لاؤ۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں یہ نہیں کر سکتا۔ چنانچہ میں اپنی جگہ واپس چلا گیا، تو اچانک گھی کا مشکیزہ آواز دینے لگا: قب قب۔ میں نے کہا: بس! کچھ بچا ہوا حصہ گر گیا ہوگا۔ پھر میں نے اندر دیکھا تو وہ اپنے دونوں کناروں تک بھرا ہوا تھا، تو میں نے اسے اٹھا لیا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر انہیں بتایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سن لو، اگر تم اسے چھوڑ دیتے تو یہ اس کے منہ تک بھر جاتا، پھر اسے باندھ دیا جاتا۔“