المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
" وآخى رسول الله صلى الله عليه وسلم بين حمزة وبين زيد بن حارثة " باب: رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حمزہ اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَحْمَدَ الْجَرْمِيُّ، ثنا أَبُو تُمَيْلَةَ، ثنا عِيسَى بْنُ عُبَيْدٍ الْكِنْدِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَحِمَهُ اللهُ قَالَ: أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَرْبَعَةٌ وَسِتُّونَ، وَأُصِيبَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ سِتَّةٌ فِيهِمْ حَمْزَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَمَثَّلُوا بِقَتْلَاهُمْ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: لَئِنْ أَصَبْنَا مِنْهُمْ يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ لَنُرْبِيَنَّ عَلَيْهِمْ. فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحُ مَكَّةَ نَادَى رَجُلٌ لَا يُعْرَفُ يَقُولُ: لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ، وَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ} [النحل: ١٢٦] ، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُفُّوا عَنِ الْقَوْمِ»سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: احد کے دن انصار میں سے 64 اور مہاجرین میں سے 6 افراد شہید ہوئے، جن میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، اور مشرکین نے ان کے مقتولین کی مثلہ کی۔ تو انصار نے کہا: اگر کسی دن ہمیں ان پر قابو ملا تو ہم ان کے ساتھ اس سے بڑھ کر سلوک کریں گے۔ پھر جب فتح مکہ کا دن آیا تو ایک نامعلوم شخص نے پکار کر کہا: آج کے بعد کوئی قریش نہیں۔ اور اللہ عزوجل نے اپنے نبی ﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی: ”اگر تم بدلہ لو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنی زیادتی تم پر کی گئی، اور اگر تم صبر کرو تو یہ صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے“ [النحل: 126]، تو نبی اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں سے (بدلے سے) رک جاؤ۔“