المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
" وآخى رسول الله صلى الله عليه وسلم بين حمزة وبين زيد بن حارثة " باب: رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حمزہ اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى حَمْزَةَ بَعْدَ أُحُدٍ وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ، فَقَالَ: «لَوْلَا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ فِي نَفْسِهَا لَتَرَكْتُهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الْعَافِيَةُ حَتَّى يُحْشَرَ مِنْ بُطُونِهَا» . ثُمَّ دَعَا بِنَمِرَةٍ، فَكَانَتْ إِذَا مُدَّتْ عَلَى رَأْسِهِ بَدَتْ رِجْلَاهُ، وَإِذَا مُدَّتَ عَلَى رِجْلَيْهِ الثِّيَابُ بَدَا رَأْسُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُدُّوهَا عَلَى رَأْسِهِ» . وَقَلَّتِ الثِّيَابُ وَكَثُرَتِ الْقَتْلَى، وَكَانَ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ وَالثَّلَاثَةُ يُكَفَّنُونَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ أَيُّهُمْ أَكْثَرُ قُرْآنًا فَيُقَدِّمُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ، فَدُفِنُوا وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْسیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ احد کے بعد حمزہ کے پاس سے گزرے، جن کی مثلہ کی گئی تھی، تو فرمایا: ”اگر صفیہ کو اپنے دل میں تکلیف نہ ہوتی تو میں انہیں یونہی چھوڑ دیتا یہاں تک کہ جانور انہیں کھا جاتے اور وہ ان کے پیٹوں سے قیامت کے دن اٹھائے جاتے۔“ پھر ایک دھاری دار چادر منگوائی، تو جب اسے سر پر پھیلایا جاتا تو پاؤں کھل جاتے، اور جب پاؤں پر پھیلایا جاتا تو سر کھل جاتا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے سر پر پھیلاؤ۔“ اس وقت کپڑے کم اور شہداء زیادہ تھے، اور ایک، دو یا تین آدمیوں کو ایک ہی کپڑے میں کفن دیا جاتا تھا، اور رسول اللہ ﷺ پوچھتے کہ ان میں کون قرآن زیادہ جانتا ہے، تو اسے قبلہ کی طرف آگے رکھتے، پھر انہیں دفن کر دیا گیا اور ان پر نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی۔