المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حمزة بن عبد المطلب بن عبد مناف عم رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأم حمزة هالة بنت أهيب بن عبد مناف بن زهرة، شهد بدرا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، ويكنى أبا عمارة، ويقال: أبو يعلى " باب: سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب بن عبدمناف رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ کے چچا، ان کی والدہ ہالہ بنت اُہیب بن عبدمناف بن زہرہ تھیں، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ بدر میں شریک ہوئے، کنیت ابوعمارہ، اور ابویعلیٰ بھی کہا جاتا ہے
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَقِيلٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ الْأَخْنَسِ بْنِ شَرِيقٍ حَلِيفِ بَنِي زُهْرَةَ أَنَّ أَبَا جَهْلٍ اعْتَرَضَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّفَا فَآذَاهُ، وَكَانَ حَمْزَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَاحِبَ قَنْصٍ وَصَيْدٍ، وَكَانَ يَوْمَئِذٍ فِي قَنْصِهِ، فَلَمَّا رَجَعَ قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ، وَكَانَتْ قَدْ رَأَتْ مَا صَنَعَ أَبُو جَهْلٍ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا عُمَارَةَ، لَوْ رَأَيْتَ مَا صَنَعَ - تَعْنِي أَبَا جَهْلٍ - بِابْنِ أَخِيكَ؟ فَغَضِبَ حَمْزَةُ، وَمَضَى كَمَا هُوَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتَهُ، وَهُوَ مُعَلِّقٌ قَوْسَهُ فِي عُنُقِهِ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَوَجَدَ أَبَا جَهْلٍ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ قُرَيْشٍ، فَلَمْ يُكَلِّمْهُ حَتَّى عَلَا رَأْسَهُ بِقَوْسِهِ فَشَجَّهُ، فَقَامَ رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى حَمْزَةَ يُمْسِكُونَهُ عَنْهُ، فَقَالَ حَمْزَةُ: «دِينِي دِينُ مُحَمَّدٍ، أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللهِ، فَوَاللهِ لَا أَنْثَنِي عَنْ ذَلِكَ، فَامْنَعُونِي مَنْ ذَلِكَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ» . فَلَمَّا أَسْلَمَ حَمْزَةُ عَزَّ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ، وَثَبَتَ لَهُمْ بَعْضُ أَمْرِهِمْ وهابَتْهُ قُرَيْشٌ، وَعَلِمُوا أَنَّ حَمْزَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَيَمْنَعُهُراوی بیان کرتے ہیں: چنانچہ حمزہ نے ابوجہل کو قریش کی ایک مجلس میں پایا، تو بغیر کوئی بات کیے اپنی کمان سے اس کے سر پر وار کیا اور اسے زخمی کر دیا۔ قریش کے کچھ لوگ حمزہ کو روکنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو حمزہ نے کہا: ”میرا دین محمد کا دین ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں، اللہ کی قسم! میں اس سے ہرگز نہیں پھروں گا، اگر تم سچے ہو تو مجھے اس سے روک کر دکھاؤ۔“ جب حمزہ مسلمان ہوئے تو رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو ان کی وجہ سے عزت اور قوت حاصل ہوئی، اور ان کا کچھ معاملہ مضبوط ہو گیا، اور قریش ان سے ڈرنے لگے، اور انہیں معلوم ہو گیا کہ حمزہ رضی اللہ عنہ ان کی حفاظت کریں گے۔