❮
❯
حدیث نمبر: 2913
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَقِيلٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ الْأَخْنَسِ بْنِ شَرِيقٍ حَلِيفِ بَنِي زُهْرَةَ أَنَّ أَبَا جَهْلٍ اعْتَرَضَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّفَا فَآذَاهُ، وَكَانَ حَمْزَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَاحِبَ قَنْصٍ وَصَيْدٍ، وَكَانَ يَوْمَئِذٍ فِي قَنْصِهِ، فَلَمَّا رَجَعَ قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ، وَكَانَتْ قَدْ رَأَتْ مَا صَنَعَ أَبُو جَهْلٍ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا عُمَارَةَ، لَوْ رَأَيْتَ مَا صَنَعَ - تَعْنِي أَبَا جَهْلٍ - بِابْنِ أَخِيكَ؟ فَغَضِبَ حَمْزَةُ، وَمَضَى كَمَا هُوَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتَهُ، وَهُوَ مُعَلِّقٌ قَوْسَهُ فِي عُنُقِهِ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَوَجَدَ أَبَا جَهْلٍ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ قُرَيْشٍ، فَلَمْ يُكَلِّمْهُ حَتَّى عَلَا رَأْسَهُ بِقَوْسِهِ فَشَجَّهُ، فَقَامَ رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى حَمْزَةَ يُمْسِكُونَهُ عَنْهُ، فَقَالَ حَمْزَةُ: «دِينِي دِينُ مُحَمَّدٍ، أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللهِ، فَوَاللهِ لَا أَنْثَنِي عَنْ ذَلِكَ، فَامْنَعُونِي مَنْ ذَلِكَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ» . فَلَمَّا أَسْلَمَ حَمْزَةُ عَزَّ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ، وَثَبَتَ لَهُمْ بَعْضُ أَمْرِهِمْ وهابَتْهُ قُرَيْشٌ، وَعَلِمُوا أَنَّ حَمْزَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَيَمْنَعُهُ
ترجمہ

یعقوب بن عتبہ بن مغیرہ بن اخنس بن شریق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابوجہل صفا کے پاس رسول اللہ ﷺ کے سامنے آیا اور آپ کو تکلیف پہنچائی۔ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شکار اور صید کے شوقین تھے، اور اس دن وہ شکار پر گئے ہوئے تھے۔ جب واپس آئے تو ان کی بیوی نے، جس نے دیکھا تھا کہ ابوجہل نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا کیا، ان سے کہا: اے ابوعمارہ! کاش آپ دیکھتے کہ اس نے، یعنی ابوجہل نے، آپ کے بھتیجے کے ساتھ کیا کیا! اس پر حمزہ غضبناک ہو گئے اور اپنے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اسی حالت میں چل پڑے، اپنی کمان گردن میں لٹکائے ہوئے، یہاں تک کہ مسجد (حرام) میں داخل ہوئے، اور ابوجہل کو قریش کی ایک مجلس میں پایا، تو بغیر کوئی بات کیے اپنی کمان سے اس کے سر پر وار کیا اور اسے زخمی کر دیا۔ قریش کے کچھ لوگ حمزہ کو روکنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو حمزہ نے کہا: ”میرا دین محمد کا دین ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں، اللہ کی قسم! میں اس سے ہرگز نہیں پھروں گا، اگر تم سچے ہو تو مجھے اس سے روک کر دکھاؤ۔“ جب حمزہ مسلمان ہوئے تو رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو ان کی وجہ سے عزت اور قوت حاصل ہوئی، اور ان کا کچھ معاملہ مضبوط ہو گیا، اور قریش ان سے ڈرنے لگے، اور انہیں معلوم ہو گیا کہ حمزہ رضی اللہ عنہ ان کی حفاظت کریں گے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2913
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 140، حدیث 2926